احتجاج کرنا جرم بن گیا، پی ٹی آئی ایم پی اے کے بیٹے نے طلبا پر گاڑی چڑھا دی
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
ایبٹ آباد یونیورسٹی میں پی ٹی آئی کے ایم پی اے افتخار خان کے بیٹے نے مبینہ طور پر احتجاج کرنے والے طلبا پر گاڑی چڑھا دی۔
واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایبٹ آباد یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبا کے کارکن وائس چانسلر کے پی اے کی جانب سے طلبا سے بدتمیزی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت کرائے پر لائی گئی ہے، فواد چوہدری
اس اثنا پی ٹی آئی کے ایم پی اے افتخار خان کے بیٹے اور آئی ایس ایف کے کارکنوں نے مبینہ طور پر طلبا پر گاڑی چڑھا دی جس سے ایک طالب علم زخمی ہوگیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعے کی ویڈیو بھی سامنے آگئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایبٹ آباد یونیورسٹی ایم پی اے افتخار خان پی ٹی آئی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایبٹ آباد یونیورسٹی ایم پی اے افتخار خان پی ٹی ا ئی ایم پی اے
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔