سانحہ گلشن اقبال، متاثرہ فیملی کے ڈیڑھ کروڑ کے مقروض ہونے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
کراچی (نیوزڈیسک) گلشنِ اقبال میں فلیٹ سے 3 خواتین کی لاشیں ملنے کے واقعے کے حوالے سے پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ متاثرہ فیملی نے ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد کا قرض لیا ہوا ہے۔
پولیس کے مطابق مذکورہ فیملی کے 75 لاکھ روپے کے قرض سے متعلق شکایت بھی موصول ہو چکی ہے، گھر اور ایک گاڑی بھی کرائے پر لی ہوئی ہے، گھر میں موجود دوسری گاڑی بینک لیز پر ہے، بیٹا پراپرٹی کا کام کرتا ہے۔
پولیس نے بتایا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق بیٹے نے جوس میں نیند کی گولیاں لیں، بیٹے کے نیند کی گولیاں لینے کی وجہ سے اس کی حالت غیر ہوئی، جبکہ والد کے پاس سے ایک خط ملا ہے جس کی مزید جانچ کر رہے ہیں۔
پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ والد اور بیٹے کو حراست میں لیا ہوا ہے، خواتین کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ان کی موت کی وجہ سامنے آ سکے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔