ایبٹ آباد سے لاپتا خاتون ڈاکٹر کی لاش جنگل سے برآمد
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251209-01-14
ایبٹ آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) خیبرپختونخوا کے شہر ایبٹ آباد میں لاپتا ڈاکٹر وردہ مشتاق کی لاش پولیس نے ایک قریبی جنگل سے برآمد کر لی۔پولیس ذرائع کے مطابق ڈاکٹر وردہ کی لاش تھندیانی کے قریبی جنگلات سے ملی، جسے پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔پولیس نے کیس کے سلسلے میں مقتولہ کی ایک سہیلی اور اْس کے شوہر کو بھی گرفتار کر لیا۔بینظیر بھٹو شہید اسپتال میں خدمات انجام دینے والی ڈاکٹر وردہ حالیہ جمعرات سے لاپتا تھی، جس کے باعث ان کے ساتھی عملے اور صوبائی ڈاکٹرز ایسوسی ایشن و گرینڈ ہیلتھ الائنس کے رہنماؤں نے احتجاج کیا اور اسپتال کی ذمے داریاں چھوڑ کر ہڑتال کی۔انہوں نے اعلان کیا تھا کہ اگر انہیں پیر تک بازیاب نہ کرایا گیا تو احتجاج صوبے بھر کے اسپتالوں تک پھیلایا جائے گا۔واقعے کی خبر سامنے آنے کے بعد اسپتال کے عملے نے احتجاج کرتے ہوئے مین شاہراہ قراقرم کو فوارہ چوک کے مقام پر بلاک کر دیا اورتاخیری کارروائی پر سخت احتجاج کیا۔مقتولہ کے والد نے تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 365 (اغوا) کے تحت ایف آئی آر درج کرائی، اس میں بتایا گیا کہ ڈاکٹر وردہ اسپتال سے ایک معروف کاروباری شخص کی بیوی کے ساتھ نکلی تھی اور میرپور تھانے کی حدود میں واقع جادون پلازہ، منڈیاں گئی تھی، جس کے بعد ان سے تمام رابطے منقطع ہو گئے۔ایف آئی آر میں مزید بتایا گیا کہ 2023 ء میں ڈاکٹر وردہ نے اپنی سہیلی کے پاس 67 تولے سونا حفاظت کے لیے رکھوایا تھا اور دبئی چلی گئی تھی لیکن وہاں رہائش کے مسائل کے باعث واپس آئیں اور سونا واپس مانگا تاہم ملزمہ ٹال مٹول سے کام لیتی رہی۔پولیس نے ایف آئی آر میں نامزد تینوں ملزمان کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر وردہ
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔