جکارتہ: 7 منزلہ رہائشی عمارت میں خوفناک آتشزدگی، 22 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں منگل کے روز ایک سات منزلہ عمارت میں بھڑکی شدید آگ نے شہر کو ہلا کر رکھ دیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 22 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ آگ کی ابتدا گراؤنڈ فلور پر ایک ڈرون کی بیٹری پھٹنے سے ہوئی، جس نے تیزی سے اوپر کی منزلوں تک اپنا دائرہ پھیلایا۔ تاہم آگ لگنے کے اصل اسباب جاننے کے لیے فرانزک تحقیقات ابھی جاری ہیں۔
سینٹرل جکارتہ پولیس کے سربراہ سوساتیو پرنومو کونڈرو نے کہا کہ فورس اس المناک واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کے لیے پرعزم ہے تاکہ ذمہ داران تک پہنچا جا سکے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ آگ دوپہر کے وقت بھڑکی اور جب تک فائر فائٹرز جائے وقوعہ پر پہنچے، تب تک شعلے کئی منزلوں تک پھیل چکے تھے۔
ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 17 بتائی گئی تھی، لیکن بعد ازاں یہ تعداد بڑھ کر 22 ہو گئی، جن میں 15 خواتین بھی شامل ہیں۔ جکارتہ فائر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق 100 سے زائد فائر فائٹرز اور 29 فائر ٹرک آگ بجھانے کے کام میں مصروف رہے۔ پولیس نے بتایا کہ فائر فائٹرز اب عمارت کو ٹھنڈا کرنے اور متعدد منزلوں سے گاڑھا دھواں صاف کرنے میں مصروف ہیں، جس کے بعد دوبارہ سرچ آپریشن کیا جائے گا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق زیادہ تر افراد آگ کے شعلوں سے نہیں بلکہ دھوئیں سے دم گھٹنے کے باعث ہلاک ہوئے، جو اس واقعے کی شدت اور مہلکیت کو واضح کرتی ہیں۔ یہ المناک حادثہ جکارتہ کی شہری حفاظت اور ہنگامی ردعمل کے نظام پر بھی سوالیہ نشان اٹھاتا ہے اور اس کے بعد تحقیقات کے نتائج میں ممکنہ حفاظتی خامیوں کی نشاندہی سامنے آسکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔