سیلاب کے باوجود پاکستان نے پروگرام پر عمل کیا، مزید اصلاحات، پیداوار بڑھانے کی ضرورت: آئی ایم ایف
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پاکستان نے آئی ایف ایف توسیعی پروگرام پر شدید سیلاب کے باوجودبہت ٹھوس عمل درآمد کیا ہے اور استحکام کو برقرار رکھا اور ملک کی بیرونی اور فنانسنگ کی صورتحال میں بہتری پیدا ہوئی، پالیسی کی ترجیحات مائیکرو اکنامک استحکام پر مرکوز رہیں گی اور پبلک فائنانس کو بہتر بنانے کے لیے ان اصلاحات کو اگے بڑھایا جائے، مسابقت میں بہتری لائی جائے، پیداوار اضافہ کیا جائے اور سیفٹی نیٹ میں مزید بہتری لائی جائے۔ سرکاری تحویل کے کاروباری اداروں میں اصلاحات کی جائیں، انرجی سیکٹر کو بہتر بنایا جائے اور پبلک سروس کی دستیابی میں بھی بہتری پیدا کی جائے، موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اصلاحات پر تیزی سے عمل کیا جائے اور پاکستان میں تواتر سے قدرتی آفات کے باعث نقصانات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کی جائے، بیان میں کہا گیا ہے 1.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کیا جائے کو بہتر کے لیے
پڑھیں:
امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔
ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔