اسلام آباد (نمائندہ  خصوصی) آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پاکستان نے آئی ایف ایف توسیعی پروگرام پر شدید سیلاب کے باوجودبہت ٹھوس عمل درآمد کیا ہے اور استحکام   کو برقرار رکھا اور ملک کی بیرونی اور فنانسنگ کی صورتحال میں بہتری پیدا ہوئی، پالیسی کی ترجیحات مائیکرو اکنامک استحکام پر مرکوز رہیں گی اور پبلک فائنانس کو بہتر بنانے کے لیے ان اصلاحات کو اگے بڑھایا جائے، مسابقت میں بہتری لائی جائے، پیداوار اضافہ کیا جائے اور سیفٹی نیٹ میں مزید بہتری لائی جائے۔ سرکاری تحویل کے کاروباری اداروں میں اصلاحات کی جائیں، انرجی سیکٹر کو بہتر بنایا جائے اور پبلک سروس کی دستیابی میں بھی بہتری پیدا کی جائے، موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اصلاحات پر تیزی سے عمل کیا جائے اور پاکستان میں تواتر سے قدرتی آفات کے باعث نقصانات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کی جائے، بیان میں کہا گیا ہے  1.

2بلین ڈالر قرض کی اس نئی قسط کے اجرا کے بعد پاکستان کو مجموعی طور پر پروگرام کے تحت 3 3. بلین ڈالر مل جائیں گے، ایف ای ایف کے تحت پاکستان کی پالیسی کی کوششوں نے معیشت کو مستحکم کرنے اور ایک مشکل عالمی ماحول اور حالیہ شدید سیلاب کے درمیان اعتماد کی تعمیر نو میں نمایاں پیشرفت کی ہے۔ حقیقی جی ڈی پی کی نمو میں تیزی آئی ہے، افراط زر  کی روک تھام ہوئی ، اور مالیاتی اور بیرونی عدم توازن اعتدال پر آ گیا ہے۔  مضبوط، نجی شعبے کی قیادت میں اور پائیدار درمیانی مدت کی ترقی کے حصول کے لیے ضروری اصلاحات کو تیز  کیا جائے ۔ مناسب طور پر سخت مانیٹری پالیسی  کو اختیار  کرنا مہنگائی کو کم کرنے میں اہم رہا ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اسے برقرار رکھا جانا چاہیے، سٹیٹ بنک کو انٹربنک فارن ایکسچینج مارکیٹ کو بڑھانے کے لیے کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔"توانائی کے شعبے میں اصلاحات کو تیز کرنا اس کی عملداری کو بچانے اور پاکستان کی مسابقت کو بہتر بنانے کے لیے بہت ضروری ہے۔  پانی کے وسائل جو پہلے ہی قلت کا شکار ہے ان کا زیادہ بہتر استعمال کیا جائے گا، پرائسنگ کو بہتر بنایا جائے گا، وفاقی اور صوبائی روابط میں بہتری لائی جائے گی، بجلی کی تقسیم کی لاگت کو بھی گھٹایا جائے پاور گیس سیکٹرز کے اندر نااہلیت کے مسئلے کو بھی حل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے گورننس اور کرپشن کی تشخیصی رپورٹ کو شائع کیا اس کا خیر مقدم کرتے ہیں، وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف کی طرف سے قسط کے اجراء پر ردعمل میں کہا کہ یہ وفاقی وزارتوں، سرکاری اداروں، سینئر سیکرٹریوں اور صوبائی حکومتوں کی  طرف سے  حکومت کے  اصلاحات کے ایجنڈے اور تعاون کو آگے بڑھانے کے لئے مضبوط تعاون کا اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی اداروں میں حاصل کردہ حمایت کے لئے وزارت خزانہ کی تشکر کا اعادہ کیا۔ اس بات پر زور دیا کہ اس مربوط کوشش معاشی استحکام کی طرف ترقی کو مستحکم کرنے میں مدد کرے گی۔ 

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کیا جائے کو بہتر کے لیے

پڑھیں:

امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ

بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔

ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔

تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ