1.2 ارب ڈالر منظور، پاکستان کی معاشی سمت درست ہے: آئی ایم ایف اعلامیہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
نیویارک (نیوز ڈیسک) آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی منظوری دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے سیلاب کے باوجود آئی ایم ایف کے پروگرام پر سختی سے عملدرآمد کیا ہے، پاکستان کی معاشی سمت درست ہے۔
آئی ایم ایف سے جاری اعلامیہ کے مطابق پاکستان نے سیلاب کے باوجود غیرملکی دباؤ کو برداشت کیا اور استحکام حاصل کیا، پاکستان نے معاشی اور توانائی کی اصلاحات بروقت کیں، سیلاب کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور مقابلے کا رحجان بڑھا۔
اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ پاکستان نے موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق آر ایس ایف پروگرام کے اہداف بھی حاصل کیے، پاکستان کو 1.
یہ بھی کہا گیا ہے کہ موجودہ قرض پروگرام کے تحت معاشی اصلاحات ہوئیں اور استحکام آیا، موجودہ قرض پروگرام سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوئے، موجودہ قرض پروگرام سے ٹیکس آمدن بڑھی اور معیشت میں ٹیکسوں کا حصہ بڑھا۔
آئی ایم ایف کے مطابق سرکاری کارپوریشنز میں اصلاحات ہوئیں اور ان کی کارکردگی بہتر ہوئی، پاکستان میں توانائی کی لاگت میں کمی ہوئی اور یہ شعبہ کاروبار کے قابل رہا، مالی سال 2025 میں پرائمری بیلنس معیشت 1.3 فیصد سرپلس رہا۔
اعلامیہ میں بتایا گیا کہ سیلاب کی وجہ سے پاکستان میں افراط زر کی شرح ضرور بڑھی لیکن یہ عارضی ہے، مرکزی بینک کت زرمبادلہ ذخائر 9.4 ارب ڈالر سے بڑھ کر 14.5 ارب ڈالر تک پہنچے، توقع ہے کہ موجودہ مالی سال کے اختتام تک زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید بہتر آئے گی۔
آئی ایم ایف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق آر ایس ایف پروگرام بھی دیا گیا، ریزیلینس سسٹین ایبیلیٹی فیسیلیٹی کے پروگرام 28 ماہ ہے، پروگرام کا مقصد موسمیاتی تبدیلیوں کے نقصان کو کم کرنا ہے، پروگرام سے وفاق اور صوبوں کے درمیان سیلابی صورت حال میں باہمی تعاون بڑھے گا، سیلاب کے نقصانات کی معلومات بروقت حاصل اور رپورٹ بروقت مکمل ہوسکے گی۔
ڈپٹی ڈائریکٹر نیگل کلاک
پاکستان کے بارے میں آئی ایم ایف کے ڈپٹی ڈائریکٹر نیگل کلاک نے کہا ہے کہ پاکستان کو موجودہ قرض پروگرام سے معاشی استحکام میں مدد ملی، معاشی ترقی کی شرح بہتر، مالیاتی خسارہ اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کنٹرول کرنے میں مدد ملی۔
ڈپٹی ڈائریکٹر نے کہا کہ پاکستان کو معاشی اصلاحات پر عملدرآمد جاری کرنا ہوگی، سیلاب کے باوجود پاکستان پرائمری بیلنس کا ہدف حاصل کرنے کے لیے پرعزم رہا، سیلاب کے باوجود پاکستان نے ٹیکس اصلاحات پر عمل درآمد جاری رکھا۔
نیگل کلاک کے مطابق پاکستان میں سخت مانیٹری پالیسی کی وجہ سے افراط زر کنٹرول میں ہے، مہنگائی کنٹرول کرنےکے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ہدف حاصل کیا، پاکستان میں کیپٹل مارکیٹ کا فروغ ہوگا اور نجی شعبے کیلئے قرضوں کا حجم بڑھے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ٹیرف سے متعلق فیصلے بروقت کرنے سے سرکلر ڈیٹ کنٹرول ہوا، پاکستان کو بجلی کی لاگت اور بجلی کے نقصانات میں کمی لانا ہوگی، پاکستان کو گیس کے شعبے میں بھی لاگت بڑھنے والے عوامل کنٹرول کرنا ہوں گے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر نے تجویز دی کہ پاکستان کو سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے اسٹرکچرل اصلاحات کی کوششیں تیز کرنا ہوں گی، پاکستان کو نجکاری کی رفتار تیز کرنا ہوگی، معاشی ڈیٹا کے حصول کا طریقہ کار مزید بہتر بنانا ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: موجودہ قرض پروگرام سیلاب کے باوجود ا ئی ایم ایف کے ڈپٹی ڈائریکٹر کہ پاکستان کو پاکستان میں پروگرام سے پاکستان نے ارب ڈالر
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔