آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی منظوری دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے سیلاب کے باوجود آئی ایم ایف کے پروگرام پر سختی سے عملدرآمد کیا ہے، پاکستان کی معاشی سمت درست ہے۔آئی ایم ایف سے جاری اعلامیہ کے مطابق پاکستان نے سیلاب کے باوجود غیرملکی دباؤ کو برداشت کیا اور استحکام حاصل کیا، پاکستان نے معاشی اور توانائی کی اصلاحات بروقت کیں، سیلاب کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور مقابلے کا رحجان بڑھا۔اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ پاکستان نے موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق آر ایس ایف پروگرام کے اہداف بھی حاصل کیے، پاکستان کو 1.

2 ارب ڈالر فوری طور پرمنتقل کیے جائیں گے، پاکستان نے ستمبر 2024 میں 37 ماہ کا موجودہ قرض پروگرام حاصل کیا تھا۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ موجودہ قرض پروگرام کے تحت معاشی اصلاحات ہوئیں اور استحکام آیا، موجودہ قرض پروگرام سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوئے، موجودہ قرض پروگرام سے ٹیکس آمدن بڑھی اور معیشت میں ٹیکسوں کا حصہ بڑھا۔آئی ایم ایف کے مطابق سرکاری کارپوریشنز میں اصلاحات ہوئیں اور ان کی کارکردگی بہتر ہوئی، پاکستان میں توانائی کی لاگت میں کمی ہوئی اور یہ شعبہ کاروبار کے قابل رہا، مالی سال 2025 میں پرائمری بیلنس معیشت 1.3 فیصد سرپلس رہا۔اعلامیہ میں بتایا گیا کہ سیلاب کی وجہ سے پاکستان میں افراط زر کی شرح ضرور بڑھی لیکن یہ عارضی ہے، مرکزی بینک کت زرمبادلہ ذخائر 9.4 ارب ڈالر سے بڑھ کر 14.5 ارب ڈالر تک پہنچے، توقع ہے کہ موجودہ مالی سال کے اختتام تک زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید بہتر آئے گی۔آئی ایم ایف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق آر ایس ایف پروگرام بھی دیا گیا، ریزیلینس سسٹین ایبیلیٹی فیسیلیٹی کے پروگرام 28 ماہ ہے، پروگرام کا مقصد موسمیاتی تبدیلیوں کے نقصان کو کم کرنا ہے، پروگرام سے وفاق اور صوبوں کے درمیان سیلابی صورت حال میں باہمی تعاون بڑھے گا، سیلاب کے نقصانات کی معلومات بروقت حاصل اور رپورٹ بروقت مکمل ہوسکے گی۔پاکستان کے بارے میں آئی ایم ایف کے ڈپٹی ڈائریکٹر نیگل کلاک نے کہا ہے کہ پاکستان کو موجودہ قرض پروگرام سے معاشی استحکام میں مدد ملی، معاشی ترقی کی شرح بہتر، مالیاتی خسارہ اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کنٹرول کرنے میں مدد ملی۔ڈپٹی ڈائریکٹر نے کہا کہ پاکستان کو معاشی اصلاحات پر عملدرآمد جاری کرنا ہوگی، سیلاب کے باوجود پاکستان پرائمری بیلنس کا ہدف حاصل کرنے کے لیے پرعزم رہا، سیلاب کے باوجود پاکستان نے ٹیکس اصلاحات پر عمل درآمد جاری رکھا۔نیگل کلاک کے مطابق پاکستان میں سخت مانیٹری پالیسی کی وجہ سے افراط زر کنٹرول میں ہے، مہنگائی کنٹرول کرنےکے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ہدف حاصل کیا، پاکستان میں کیپٹل مارکیٹ کا فروغ ہوگا اور نجی شعبے کیلئے قرضوں کا حجم بڑھے گا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ٹیرف سے متعلق فیصلے بروقت کرنے سے سرکلر ڈیٹ کنٹرول ہوا، پاکستان کو بجلی کی لاگت اور بجلی کے نقصانات میں کمی لانا ہوگی، پاکستان کو گیس کے شعبے میں بھی لاگت بڑھنے والے عوامل کنٹرول کرنا ہوں گے۔ڈپٹی ڈائریکٹر نے تجویز دی کہ پاکستان کو سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے اسٹرکچرل اصلاحات کی کوششیں تیز کرنا ہوں گی، پاکستان کو نجکاری کی رفتار تیز کرنا ہوگی، معاشی ڈیٹا کے حصول کا طریقہ کار مزید بہتر بنانا ہوگا۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: موجودہ قرض پروگرام سیلاب کے باوجود ا ئی ایم ایف کے کہ پاکستان کو پاکستان میں پاکستان نے پروگرام سے ارب ڈالر

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور