Jasarat News:
2026-07-24@08:33:25 GMT

ہیومن رائٹس گورنمنٹ آف سندھ کے زیر اہتمام یونیٹی واک

اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

 

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ میں انسانی حقوق کے فروغ کے لیے ایک یونیٹی واک منعقد کی گئی۔ واک کے بعد مینٹل ہیلتھ کے موضوع پہ سیمینار منعقد ہوا جس کا مرکزی موضوع ذہنی صحت تھا۔ یہ سیشن ماسک آگاہی پروگرام برائے انسانی حقوق گورنمنٹ آف سندھ کے تحت منعقد ہوا، واک اور سیمینار میں وزیر اعلی سندھ کے معاون خصوصی برائے انسانی حقوق راج ویر سنگھ،خالد اے کے چاچڑ سیکرٹری انسانی حقوق، سعید سومرو سیکشن آفیسر انسانی حقوق،زاہد احمد تھیبو، ڈاکٹر ریحانہ،ڈاکٹر عامر، وسیم اخلاق، محمد علی، عباس کھوسو،ٹرانس جینڈر شہزادی رائو،پروگرام آرگنائزر نازیہ ناز، سمیت حکومتی نمائندوں سول سوسائٹی،این جی اوز کے نمائندوں اکیڈیمیا، صحافی، ڈاکٹرز، اساتذہ سمیت شہریوں نے بھرپور شرکت کی۔پروگرام کا مقصد ذہنی صحت کے مسائل پر آگاہی پیدا کرنا اور معاشرتی خاموشی توڑنا تھا۔ شرکاء نے بتایا کہ ذہنی دباو ¿، اضطراب اور ڈپریشن نہ صرف افراد کی ذاتی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ تعلیم، کام اور سماجی ترقی پر بھی اثر ڈالتے ہیں۔ پروگرام میں کہا گیا کہ حکومت، سول سوسائٹی اور تعلیمی اداروں کو مل کر ہر شہری کے لیے ذہنی صحت کے تحفظ اور سہولت فراہم کرنے پر کام کرنا چاہیے۔اس موقع پر یہ بھی واضح کیا گیا کہ ذہنی صحت ایک بنیادی انسانی حق ہے اور اس کے فروغ کے لیے آگاہی، تعلیم اور قانونی اقدامات کو مزیدمضبوط کرنا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔پروگرام کی کامیابی میں راجویر سنگھ سودھا، خصوصی معاون وزیر اعلیٰ سندھ برائے انسانی حقوق اور سیکریٹری انسانی حقوق سندھ، خالد چاچڑ کی قیادت کو سراہا گیا۔

اسٹاف رپورٹر.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن