Express News:
2026-07-24@01:25:15 GMT

دسمبر کی تلخ گواہی

اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT

دسمبر کا مہینہ جب بھی آتا ہے پاکستان کی اجتماعی یادداشت کے اوراق خونچکاں ہو جاتے ہیں۔ یہ مہینہ تاریخ کے اُس باب کو تازہ کر دیتا ہے جسے ہم چاہ کر بھی بھلا نہیں پاتے۔ 1971 ہماری وہ کڑی آزمائش تھی جس میں ہم ناکام ہوئے۔ مشرقی پاکستان کے زخم نہ صرف ہمارے سیاسی رویوں کی کمزوریوں کا آئینہ ہیں بلکہ قوموں کے مستقبل پر ماضی کی غلطیوں کے اثرات کی بھی واضح مثال ہیں۔

قیامِ پاکستان کے بعد مرکز میں طاقت اور معاشی وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم، اردو کو واحد قومی زبان قرار دینے کا فیصلہ اور مغربی پاکستان کے حکمران طبقے کی سیاسی و مالی بالادستی نے دونوں حصوں کے درمیان بے اعتمادی کو بڑھایا۔ مگر اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں نے اسے سنجیدگی سے نہ لیا۔ بنگالی مسلمانوں کو شکوہ تھا کہ اُن کی اکثریت ہونے کے باوجود طاقت کے مراکز میں ان کی نمایندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔

1954 ہو یا 1965 یا پھر 1970 کے انتخابات ہر بار انھوں نے واضح طور پر یہ باور کرایا کہ انھیں اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں خود فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے۔ مگر 1970 کے انتخابات کے بعد جس طرح اقتدار کی منتقلی میں تاخیر کی گئی اس نے مغربی پاکستان کی قیادت پر سوالات کھڑے کیے۔

یہ وہی وقت تھا جب تاریخ نے اختلافات کو سلجھانے کا ایک آخری موقع ہمارے ہاتھوں میں رکھا مگر ہم اسے نہ سمجھ سکے اور نہ سنبھال سکے۔1971 کی جنگ میں بھارت نے یقیناً انھی عوامل فائدہ اٹھایاجو آگ ہمارے اندر کی ناانصافیاں بھڑکا رہی تھیں۔ اگر ہم اس حقیقت کا اعتراف کرنے کی ہمت رکھیں تو آج بھی اس زخم سے سیکھ سکتے ہیں۔ سقوطِ مشرقی پاکستان فکری، عوامی، سیاسی اور انتظامی شکست تھی۔

 بنگلادیش کئی حوالوں سے مسلسل ترقی کی طرف بڑھتا نظر آتا ہے۔ برآمدات، صنعت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری ،بنگلادیش نے ان تمام شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے سیاسی عدم استحکام، معاشی بحرانوں اور پالیسیوں کے تسلسل کی کمی کا شکار ہے۔ آج پاکستان اور بنگلادیش سیاسی، معاشی اور سفارتی تعلقات کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ دونوں ممالک تجارت بڑھانے کے خواہشمند ہیں ۔ بنگلادیش کے عوام آج بھی پاکستان کے عوام سے محبت رکھتے ہیں۔ پاکستان نے بھی گزشتہ برسوں میں اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ سفارتی تعلقات کو مزید بہتر بنانا علاقائی تعاون کے لیے ضروری ہے۔

مستقبل کی نسلیں ماضی کی تلخیوں کے ساتھ نہیں جی سکتیں،انھیں امید، تعاون اور ترقی کے نئے راستے چاہئیں۔اس تناظر میں دسمبر کا تقویمی درد صرف ماضی کا ماتم نہیں کرنا چاہیے بلکہ ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم نے اُس سانحے سے کیا سیکھا اور آج اپنے ملک میں کون سی وہ چیزیں ہیں جنھیں درست کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ لسانی اختلافات آج بھی موجود ہیں، صوبائی خدشات آج بھی اپنی جگہ ہیں، معاشی عدم مساوات آج بھی ہمارے قومی ڈھانچے کو کمزور کر رہاہے اور سیاسی قیادت آج بھی تقسیم میںا ہے ۔

تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ قومیں تب ہی مضبوط ہوتی ہیں جب ان میں انصاف غالب ہو، جب وسائل کی تقسیم شفاف ہو، جب ریاست اپنے ہر شہری کو برابر کا درجہ دے اور جب سیاسی فیصلے عوامی خواہشات اور قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کیے جائیں۔ اگر ہم آج بھی ان بنیادی اصولوں کو نظرانداز کریں گے تو ماضی پھر دروازہ کھٹکھٹانے آئے گا اور تاریخ ایک بار پھر سوال اٹھائے گی کہ ہم نے آخر کیا سیکھا؟ تاریخ کا بوجھ صرف یاد رکھنے کے لیے نہیں ہوتا بلکہ اس سے سیکھنے کے لیے ہوتا ہے۔ 1971 ہمارا سب سے بڑا قومی زخم تھا مگر یہ زخم قوم کی تعمیرِنو کا ایک اہم سنگِ میل بھی بن سکتا تھا۔ بدقسمتی سے ہم نے اس موقع سے وہ فائدہ نہیں اٹھایا جو ہمیں اٹھانا چاہیے تھا مگر آج بھی دیر نہیں ہوئی۔آج کا پاکستان اگر خود احتسابی، شفافیت ، قومی اتحاد، معاشی انصاف اور سیاسی بلوغت اپنانے کا فیصلہ کر لے تو ماضی کے زخموں پر مرہم رکھا جا سکتا ہے۔

اور آج کا بنگلادیش اگر پاکستان کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط بڑھا کرتعلقات کو نئی سمت دے تو یقیناً دونوں ممالک خطے میں ایک نئے دور کے آغاز کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔دسمبر کا پیغام محض سوگ نہیںیہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ماضی کو دفن نہیں کیا جا سکتا مگر اس کے زخم مستقبل کی روشنی میں بھلے ضرور ہو سکتے ہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم تاریخ کے تلخ اوراق سے گریز نہ کریں بلکہ ان سے سیکھ کر ایسا پاکستان اور ایسا خطہ تعمیر کریں جہاں تقسیم نہیں، اتحاد اور تعاون غالب ہو۔ خدا کرے کہ ہماری قیادت اس ضمن میں مثبت فیصلوں کی بنیاد رکھیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان کے ا ج بھی

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف