City 42:
2026-06-03@04:57:49 GMT

جعلی ای چالان سے ہوشیار! نئے سائبر فراڈ کو کیسے پہچانیں؟

اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT

ویب ڈیسک: کراچی میں ای چالان سسٹم فعال ہوتے ہی سائبر کرمنلز ایک نئی چال کے ساتھ متحرک ہوگئے ہیں، جہاں شہریوں کو ٹریفک پولیس کے جعلی ای چالان کے پیغامات بھیجے جانے لگے ہیں۔

 ان پیغامات میں بتایا جاتا ہے کہ شہری نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اور فوری طور پر جرمانہ ادا کرے۔ پیغام میں ایک لنک بھی دیا جاتا ہے جس پر کلک کر کے مبینہ طور پر چالان ادا کرنے کا کہا جاتا ہے۔ تاہم یہ پیغامات مکمل طور پر جعلی اور فراڈ پر مبنی ہیں۔

لیسکو کا سموگ کے دوران بجلی بریک ڈاؤن سے بچاؤ کیلئے اقدامات کا آغاز

 ذرائع کے مطابق یہ سائبر کرمنلز سرکاری طرز کے جعلی پیغامات تیار کر کے شہریوں کو دھوکا دیتے ہیں۔ جیسے ہی کوئی شہری ان جعلی لنکس پر کلک کرتا ہے، وہ ٹریفک پولیس کو نہیں بلکہ ان جعل سازوں کو رقم ادا کر بیٹھتا ہے، اس کے علاوہ ان لنکس کے ذریعے شہریوں کے بینک اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات بھی چرا لی جاتی ہیں۔

 ڈی آئی جی ٹریفک پولیس پیر محمد شاہ نے واضح کیا ہے کہ ٹریفک پولیس عام نمبرز سے ای چالان نہیں بھیجتی، اس لیے شہری ایسے پیغامات سے ہوشیار رہیں اور کسی بھی مشکوک لنک پر کلک نہ کریں۔

ماضی کی معروف اداکارہ سیمی زیدی کس حال میں اور کہاں؟

 ماہرین کے مطابق ایسے فراڈ سے بچنے کے لیے چند آسان احتیاطی تدابیر اپنانا ضروری ہے۔

 سب سے پہلے، پیغام میں درج گاڑی کا نمبر لازمی چیک کریں کہ آیا وہ آپ کی گاڑی سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔

 دوسرا ای چالان کی تصدیق صرف سرکاری ویب سائٹ یا ایپ پر کریں۔

 مزید یہ کہ ایسے پیغامات کی زبان پر بھی غور کریں، جعلی پیغامات میں عموماً گرامر کی غلطیاں اور غیرمعمولی جملے شامل ہوتے ہیں، اگر کوئی پیغام مشکوک لگے تو فوری طور پر متعلقہ ٹریفک پولیس سے رابطہ کریں۔

 تجارتی معاہدہ: امریکی خام تیل کا پہلا بحری جہاز پاکستان پہنچ گیا

 ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ اپنے موبائل اور کمپیوٹر کے سیکیورٹی سافٹ ویئرز کو ہمیشہ اپ ڈیٹ رکھیں تاکہ میل ویئر یا فِشنگ حملوں سے بچا جا سکے۔

 سائبر ماہرین کا کہنا ہے کہ فراڈیے شہریوں کے خوف کا فائدہ اٹھا کر انہیں ٹریفک جرمانوں کے نام پر لوٹنے کی کوشش کر رہے ہیں،اس لیے ضروری ہے کہ شہری کسی بھی مشکوک پیغام پر اندھا دھند یقین نہ کریں، بلکہ ہر اطلاع کی تصدیق صرف سرکاری ذرائع سے کریں۔

بحیرہ عرب پر موجود دباؤ کا فاصلہ کراچی سے مزید کم، سندھ میں بارش کا امکان؛ محکمہ موسمیات

 سائبر کرمنلز ٹریفک چالان کے بہانے شہریوں کے بینک اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کر رہے ہیں، شہری اگر محتاط رہیں اور صرف سرکاری ذرائع سے تصدیق کریں تو خود کو مالی نقصان سے بچا سکتے ہیں، یاد رکھیں، آگاہی ہی آپ کا پہلا دفاع ہے۔

 اس کے علاوہ  کراچی کی سڑکوں پر  3 دن میں 11 ہزار  سے زائد ’’ای چالان‘‘ کیے گئے جن میں سے ایک ہزار  755 چالان تیز  رفتاری پر کیے گئے۔

 نیو اسلام آباد ایئرپورٹ پر چیتہ دیکھے جانے کی اطلاع،  سرچ آپریشن جاری

  شہری ای چالان پر حیران و پریشان دکھائی دیے، شہریوں نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کیمرے اور ڈیوائسز  تو  لگا دیں مگر کہیں بھی رفتار کی حد یا چالان کی زد میں آنے والی دیگر خلاف ورزیوں کے بارے میں بینرز یا سائن بورڈ نہیں لگائے۔

  شہریوں نے کہا کہ اندھا دھند چالان کئے گئے تو ساری کمائی چالان بھرنے میں ہی چلی جائے گی،ڈی ایس پی ٹریفک کاشف ندیم کا کہنا ہے کہ کراچی میں حسن سکوائر ، سوک سینٹر ، شارع فیصل، نرسری ، بلوچ کالونی اور ڈرگ روڈ سمیت، آئی آئی چند ریگر روڈ ، کلفٹن، تین تلوار اور ڈیفنس اتحاد اسٹریٹ پر سسٹم رائج ہے جو  اوور اسپیڈ مانیٹر کررہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: ٹریفک پولیس

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری