سعودی عرب کی نئی یوتھ ڈویلپمنٹ پالیسی، وژن 2030 میں نوجوانوں کے فعال کردار کی راہ ہموار
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
سعودی عرب کی وزارت انسانی وسائل اور سماجی ترقی نے نئی یوتھ ڈویلپمنٹ پالیسی متعارف کرائی ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو مملکت کے وژن 2030 کے اہداف میں حصہ دار بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں نوجوانوں کا بول بالا، بزرگ آبادی صرف 2.8 فیصد
ترجمان وزارت انسانی وسائل اور سماجی ترقی کے مطابق جنرل پالیسی فار یوتھ ڈویلپمنٹ نوجوانوں کی سرکاری اداروں، نجی شعبے اور غیر منافع بخش تنظیموں میں شمولیت کو بڑھانے پر مرکوز ہے۔ اس پالیسی کا مقصد نوجوانوں کو نہ صرف ملکی سطح پر پیش قدم بننے کا موقع دینا بلکہ انہیں عالمی سطح پر مسائل حل کرنے اور اختراعی کردار ادا کرنے کے قابل بنانا بھی ہے۔
پالیسی نوجوانوں کے لیے طویل مدتی اور پائیدار ماحول فراہم کرنے کے لیے رہنما اصول اور عملی وسائل مہیا کرتی ہے تاکہ وہ ترقی کر سکیں۔ اس کی 5 بنیادی شعبہ جات میں اقتصادی بااختیاری، کمیونٹی میں شمولیت، تعلیم اور زندگی بھر سیکھنے کے مواقع، صحت اور فلاح و بہبود، اور قومی شناخت و مذہبی اقدار شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’پرفیوم سعودی نوجوانوں کی شناخت کا حصہ‘، جدہ سپر ڈوم میں خوشبوؤں کی منفرد نمائش جاری
وزارت کے مطابق پالیسی نوجوانوں کے مسائل، قانون سازی کے خلا اور نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والے منصوبوں کی مالی بااختیاری کو حل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ پالیسی میں ڈیجیٹل سیفٹی، امتیاز اور تشدد سے تحفظ، خواتین اور مردوں کے لیے مساوی مواقع، اور معذور نوجوانوں کو بااختیار بنانے جیسے اہداف پر زور دیا گیا ہے۔
پالیسی کے قیام سے پہلے وزارت نے 20 ترقی یافتہ ممالک کی نوجوان تیاری پروگراموں کا تفصیلی مطالعہ کیا اور 34 سے زائد ورکشاپس میں اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کی۔ تحقیق کے دوران وزارت نے ملکی و غیر ملکی ماہرین کے ساتھ میٹنگز اور 11 ہزار سے زائد نوجوانوں کے سرویز بھی کیے۔
یہ بھی پڑھیں: سیاحت 2030 تک سعودی عرب کی معیشت میں تیل کے برابر ہوجائے گی؟
2024 میں سعودی عرب یوتھ ڈویلپمنٹ اسٹریٹیجی بھی متعارف کرائی گئی تھی، جو 30 سے زائد سرکاری اور نجی اداروں کی معاونت سے تیار کی گئی، اور نوجوانوں کی مختلف شعبوں میں معاونت کے عزم کی علامت ہے۔
جنرل پالیسی فار یوتھ ڈویلپمنٹ نوجوانوں کے لیے سعودی عرب کو ترقی اور مواقع کا مرکز بنانے کی جانب ایک اور قدم ہے، خاص طور پر جب کہ 69.
وزارت نے اپنے پالیسی دستاویز میں شاہ سلمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: “آپ قوم کی مستقبل میں سرمایہ کاری ہیں۔”
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news جنرل پالیسی فار یوتھ ڈویلپمنٹ سعودی عرب نوجوان وزارت انسانی وسائل اور سماجی ترقی وژن 2030
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: نوجوان وزارت انسانی وسائل اور سماجی ترقی وژن 2030 نوجوانوں کی نوجوانوں کے کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔