سعودی عرب میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران غیر قانونی طور پر مقیم 19 ہزار 576 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

سعودی وزارتِ داخلہ کے مطابق یہ گرفتاریاں 4 دسمبر سے 10 دسمبر کے دوران سیکیورٹی فورسز اور متعلقہ سرکاری اداروں کے اشتراک سے کی گئی مشترکہ تفتیشی کارروائیوں کے نتیجے میں عمل میں آئیں۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں موسیقی کے رنگ، چینی کورس نے عربی زبان میں پہلی بار گیت پیش کیے

وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ گرفتار ہونے والوں میں 12 ہزار 506 افراد اقامہ قوانین کی خلاف ورزی، 4 ہزار 154 سرحدی تحفظ قوانین کی خلاف ورزی اور 2 ہزار 916 افراد لیبر قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث تھے۔

Saudi Arabia deports 12,365 illegal residents in a weekhttps://t.

co/37WgizJDAJ

— Syeda Yasmeen Ali (@yasmeen_9) December 14, 2025

اسی عرصے کے دوران 12 ہزار 365 قانون شکن افراد کو ملک بدر کیا گیا، جبکہ 21 ہزار 803 افراد کو سفری دستاویزات کے حصول کے لیے ان کے سفارتی مشنز کے حوالے کیا گیا۔

اس کے علاوہ 5 ہزار 202 افراد کو سفری انتظامات مکمل کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کو بھیجا گیا۔

مزید پڑھیں: حیاتیاتی تنوع کا فروغ، سعودی عرب میں 35 نایاب جانوروں کی واپسی

وزارتِ داخلہ کے مطابق مملکت میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے 1 ہزار 418 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں 41 فیصد یمنی، 57 فیصد ایتھوپیائی جبکہ 2 فیصد دیگر قومیتوں سے تعلق رکھتے تھے۔

اسی طرح مملکت سے غیر قانونی طور پر باہر جانے کی کوشش کے دوران 24 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب میں موسیقی کے رنگ، چینی کورس نے عربی زبان میں پہلی بار گیت پیش کیے

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ غیر قانونی مقیم افراد کو آمدورفت، رہائش اور روزگار فراہم کرنے میں ملوث 16 افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

اس وقت مجموعی طور پر 30 ہزار 427 غیر ملکیوں کے خلاف قانونی کارروائی کا عمل جاری ہے، جن میں 28 ہزار 718 مرد اور 1 ہزار 709 خواتین شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور سعودی عرب میں اہم پیشرفت: روہنگیا مسلمانوں کا دیرینہ قانونی مسئلہ حل

وزارتِ داخلہ نے خبردار کیا ہے کہ جو بھی شخص غیر قانونی طور پر افراد کو مملکت میں داخل ہونے میں سہولت فراہم کرے، انہیں نقل و حمل مہیا کرے، رہائش دے یا کسی بھی قسم کی مدد یا خدمات فراہم کرے، اسے 15 سال تک قید اور 10 لاکھ سعودی ریال تک جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔

اس کے علاوہ ایسے جرائم میں استعمال ہونے والی گاڑیاں اور رہائشی مکانات بھی ضبط کر لیے جائیں گے۔

وزارت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کی اطلاع مکہ مکرمہ، ریاض اور مشرقی صوبے میں 911 جبکہ مملکت کے دیگر علاقوں میں 999 اور 996 پر دیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آمدورفت ایتھوپیا ریاض سعودی عرب سیکیورٹی فورسز لیبر قوانین مکہ مکرمہ ملک بدر نقل و حمل وزارت داخلہ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا مدورفت ایتھوپیا ریاض سیکیورٹی فورسز لیبر قوانین مکہ مکرمہ ملک بدر وزارت داخلہ قوانین کی خلاف ورزی افراد کو کے دوران کیا گیا گیا ہے

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل