ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کا جنون ایک اور جان نگل گیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
کراچی:
ملیر گلشنِ حدید میں مبینہ طور پر ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کے دوران ایک سیکیورٹی گارڈ جاں بحق ہوگیا۔
پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والے سیکیورٹی گارڈ کی شناخت 35 سالہ نواز ولد حق نواز کے نام سے ہوئی ہے۔ ترجمان کراچی پولیس کے جاری کردہ بیان کے مطابق سیکیورٹی گارڈ نواز مبینہ طور پر ٹک ٹاک ویڈیو بنا رہا تھا، اسی دوران اپنے اسلحے کا فائر لگنے سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔
واقعے کے بعد سیکیورٹی گارڈ کی بنائی گئی مبینہ ٹک ٹاک ویڈیو اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آگئی ہے جس میں اسے بڑے اسلحے کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔
ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ سیکیورٹی گارڈ اسلحہ لوڈ کرنے کے بعد اسے گردن پر رکھتا ہے گردن پر رکھتے ہی اسلحے سے گولی چلتی ہے جو جان لیوا ثابت ہوتی ہے جو کہ مبینہ ٹک ٹاک ویڈیو میں مزید گولیاں چلنے کی آوازیں بھی آتے رہی ہیں۔
ایس ایچ او تھانہ اسٹیل ٹاؤن اسلم کے مطابق یہ بات تاحال واضح نہیں ہو سکی کہ سیکیورٹی گارڈ نے باقاعدہ خودکشی کی یا ٹک ٹاک ویڈیو بناتے ہوئے حادثاتی طور پر فائر چل گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تفتیش کی جا رہی ہے جبکہ سیکیورٹی گارڈ کی لاش کو قانونی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ مزید تحقیقات کے بعد ہی واقعے کی اصل وجوہات سامنے آسکیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سیکیورٹی گارڈ ٹک ٹاک ویڈیو
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔