ٹنڈو الہیار میں میں ای ٹکٹنگ اورای چالان کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251212-2-7
ٹنڈوالٰہیار(نمائندہ جسارت)ڈپٹی کمشنر ٹنڈوالہیار نور مصطفٰی لغاری کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ضلع بھر میں جدید ای ٹکٹنگ اور ای چالان سسٹم کے نفاذ کا آغاز کر دیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں عوام کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ نیا نظام شفافیت، قانون پر عملدرآمد اور عوامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے متعارف کرایا جا رہا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں اب جرمانے ڈیجیٹل طریقے سے جاری ہوں گے، جس سے نہ صرف محکمہ جاتی کارکردگی میں بہتری آئے گی بلکہ کرپشن اور بے ضابطگی کے امکانات میں بھی نمایاں کمی متوقع ہے۔ شہریوں کو چالان کی کاپی، جرمانے کی تفصیلات اور ادائیگی کے طریقہ کار تک آن لائن رسائی فراہم کی جائے گی، جس سے عوام کا وقت بچے گا، ٹریفک نظام بہتر ہوگا اور قانون پر مکمل عملدرآمد ممکن ہو سکے گا۔ڈپٹی کمشنر نور مصطفٰی لغاری نے اس موقع پر یقین دہانی کروائی کہ ضلعی انتظامیہ اس نظام کی کامیابی کے لئے عوامی آگاہی مہم بھی چلائے گی۔ انہوں نے شہریوں سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جدیدیت کی جانب قدم بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔