ٹنڈو الہیار میں میں ای ٹکٹنگ اورای چالان کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251212-2-7
ٹنڈوالٰہیار(نمائندہ جسارت)ڈپٹی کمشنر ٹنڈوالہیار نور مصطفٰی لغاری کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ضلع بھر میں جدید ای ٹکٹنگ اور ای چالان سسٹم کے نفاذ کا آغاز کر دیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں عوام کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ نیا نظام شفافیت، قانون پر عملدرآمد اور عوامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے متعارف کرایا جا رہا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں اب جرمانے ڈیجیٹل طریقے سے جاری ہوں گے، جس سے نہ صرف محکمہ جاتی کارکردگی میں بہتری آئے گی بلکہ کرپشن اور بے ضابطگی کے امکانات میں بھی نمایاں کمی متوقع ہے۔ شہریوں کو چالان کی کاپی، جرمانے کی تفصیلات اور ادائیگی کے طریقہ کار تک آن لائن رسائی فراہم کی جائے گی، جس سے عوام کا وقت بچے گا، ٹریفک نظام بہتر ہوگا اور قانون پر مکمل عملدرآمد ممکن ہو سکے گا۔ڈپٹی کمشنر نور مصطفٰی لغاری نے اس موقع پر یقین دہانی کروائی کہ ضلعی انتظامیہ اس نظام کی کامیابی کے لئے عوامی آگاہی مہم بھی چلائے گی۔ انہوں نے شہریوں سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جدیدیت کی جانب قدم بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :