نگر کے علماء و عمائدین کے وفد کا مرکزی انجمن امامیہ آفس گلگت کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
قائد ملت جعفریہ آغا سید راحت حسین الحسینی نے علمائے نگر اور عمائدین کے وفد کی آمد کو نہایت خوش آئند اور حوصلہ افزا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی ملاقاتیں ملت میں اتحاد، شعور اور باہمی ربط کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان کے موجودہ ملکی و علاقائی حالات کے تناظر میں علمائے کرام اور عمائدین نگر کا ایک نمائندہ وفد امامِ جمعہ و والجماعت جامع مسجد غلمت نگر شیخ ڈاکٹر علی محمد کی سربراہی میں مرکزی امامیہ جامع مسجد گلگت پہنچا۔ وفد نے اس موقع پر قائدِ ملتِ جعفریہ گلگت بلتستان آغا سید راحت حسین الحسینی، صدر مرکزی انجمن امامیہ سید شرف الدین کاظمی اور صدر ہیئت آئمہ جمعہ و جماعت شیخ شرافت علی ولایتی سے ایک اہم ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران ملک اور خطے کی موجودہ صورتحال، امن و امان، اور ملتِ تشیع کو درپیش چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد نے قائد ملت جعفریہ کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم آغا سید راحت حسین الحسینی کے ہر حکم پر لبیک کہنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ وفد نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملت کی وحدت، استحکام اور امن کے قیام کے لیے قائد محترم کی رہنمائی میں متحد ہو کر جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
قائد ملت جعفریہ آغا سید راحت حسین الحسینی نے علمائے نگر اور عمائدین کے وفد کی آمد کو نہایت خوش آئند اور حوصلہ افزا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی ملاقاتیں ملت میں اتحاد، شعور اور باہمی ربط کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہیں۔ آپ نے وفد کے جذبۂ اخلاص کو سراہتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کی موجودہ صورتحال میں تمام مکاتبِ فکر کے درمیان افہام و تفہیم اور مشترکہ لائحہ عمل وقت کی ضرورت ہے۔ حکومت کی جانب سے حالیہ یکطرفہ کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انصاف کے تقاضے سب کے لیے یکساں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی طبقے کے ساتھ امتیازی رویہ ملک و قوم کے امن کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ملاقات کے اختتام پر طے پایا کہ آئندہ کے لیے ایک مشترکہ حکمتِ عملی مرتب کی جائے گی تاکہ حالات کو مزید بہتر بنانے اور ملت کے حقوق کے تحفظ کے لیے مربوط اور مؤثر کردار ادا کیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: آغا سید راحت حسین الحسینی کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.