کراچی میں بے قابو واٹر ٹینکر سے کچل کر دوبہنوں کا اکلوتا بھائی جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: کراچی کی سڑکوں پر تیز رفتار اور بے قابو واٹر ٹینکر نے ایک اور نوجوان کی زندگی چھین لی۔ نارتھ کراچی فور کے چورنگی کے قریب کالج جانے والے 18 سالہ عابدرئیس ولد رئیس احمدکوواٹر ٹینکر نے کچل دیا۔عابد رئیس عثمان پبلک اسکول کیمپس 2 فرسٹ ایئر کے طالب علم تھے۔
آج 18 سالہ عابد موٹرسائیکل پر کالج جانے کے لیے گھر سے نکلا۔ چند ہی قدم کے فاصلے پر بے قابو اور تیز رفتار واٹر ٹینکر نے اسے کچل دیا، جس کے نتیجے میں عابد موقع پر جاں بحق ہوگیا.
یاد رہے کہ شہر قائد میں رواں سال ہیوی ٹریفک حادثات میں 244 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ شہر کی سڑکوں پر بے لگام واٹر ٹینکرز، ڈمپرز اور ٹریلرز کی وجہ سے شہریوں کی جانیں خطرے میں ہیں۔ بسوں اور منی ٹرکوں کی ٹکر سے بھی متعدد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔شہر قائد میں ای چالان کے باجود ٹریفک حادثات میں شہریوں کی اموات سوالیہ نشان ہیں،شہر میں منہ زور ہیوی ٹریفک کے خلاف موثر اقدامات کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔
تمام تر دعوو ں کے باوجود شہر میں دن کے اوقات میں ڈمپر اور خصوصاً واٹر ٹینکر دوڑتے پھرتے ہیں مگر شہر میں لگائے گئے جدید کیمروں کے ذریعے بھی ارباب اختیار کو نظر نہیں آتے ۔اور جو آئے روز کسی نہ کسی گھر کا چراغ گل کردیتے ہیں۔
کراچی میں امسال ٹینکر کے ذریعے 54 واقعات رونما ہوچکے ہیں شہر قائد میں رواں سال ہیوی ٹریفک حادثات میں 250 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور مجموعی طور پر ٹریفک سے 800 سے زائد واقعات ہوچکے ہیں۔ شہر کی سڑکوں پر بے لگام واٹر ٹینکرز، ڈمپرز اور ٹریلرز کی وجہ سے شہریوں کی جانیں خطرے میں ہیں۔ بسوں اور منی ٹرکوں کی ٹکر سے بھی متعدد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔
شہر قائد میں ای چالان کے باجود ٹریفک حادثات میں شہریوں کی اموات سوالیہ نشان ہیں،شہر میں منہ زور ہیوی ٹریفک کے خلاف موثر اقدامات کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ شہر کراچی ایسا شہر بن گیا ہے جہاں آئے روز شہری اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھا رہے ہیں۔سندھ حکومت کراچی کے شہریوں کو ریلیف دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹریفک حادثات میں واٹر ٹینکر ہیوی ٹریفک شہریوں کی ہیں شہر
پڑھیں:
اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
اٹلی(نیوز ڈیسک)اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جو ایک جلی ہوئی منی وین میں مردہ پائے گئے تھے۔
گاڑی جنوبی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع کھیتی کے علاقے میں ایک گاؤں کے قریب ایک پٹرول اسٹیشن سے ملی۔
سی سی ٹی وی امیجز میں دیکھا گیا کہ دو افراد وین کے دروازے باہر سے روک رہے ہیں اور آگ لگانے کے لیے اندر مائع پھینک رہے ہیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ مہینوں میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات ہوئے ہیں، جہاں فارم کے کام اور رہائش کی تقسیم پر تارکین وطن کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔
فائر فائٹرز کو منگل کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 13:00 بجے (11:00 GMT) جلتی ہوئی وین کے مقام پر بلایا گیا۔
شعلوں کو بجھانے کے بعد انہوں نے اندر سے چار جلی ہوئی لاشوں کی بھیانک دریافت کی۔
دونوں مشتبہ افراد کو بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔
اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا پانچواں شخص حملے میں بچ گیا ہے۔ ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل ہے، جو تمام زراعت کا کام کرتے تھے۔
زندہ بچ جانے والے شخص نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک کھڑکی توڑ کر جلتی ہوئی کار سے بچ نکلا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں گرفتار افراد کی جانب سے گاڑی میں سوار افراد سے ٹرانسپورٹیشن کی رقم کا مطالبہ کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا، جسے انہوں نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو علاقے کے اسٹرابیری کے کھیتوں میں ان کے کام کی ادائیگی نہیں کی گئی، حالانکہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کی گئی تھی۔
ان ہلاکتوں نے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلابریا کے علاقائی صدر، روبرٹو اوچیوٹو نے کہا کہ حملے کی خبر “انسانیت پر یقین کو متزلزل کرتی ہے”، اور مزید کہا کہ یہ “غیر انسانی” ہے۔
اس دوران CGIL یونین کے حوالے سے اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی نے “ہمارے دیہی علاقوں میں مزدوروں، اکثر تارکین وطن کی طرف سے برداشت کی جانے والی روزمرہ کی زندگی کی گھناؤنی حرکتوں کا مقابلہ کرنے” کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا۔