کراچی میں حوالہ ہنڈی کیخلاف کارروائی، ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد مالیت کے ڈالر برآمد
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
گرفتار ملزم سے موبائل فونز، حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی ایکسچینج سے متعلق شواہد برآمد کر لیے گئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں حوالہ ہنڈی کے خلاف کارروائی میں ڈیڑھ کرور روپے سے زائد مالیت کے امریکی ڈالرز برآمد کرلیے گئے۔ ڈی جی ایف آئی اے کی ہدایت پر حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث ملزمان کے خلاف ایف آئی اے اسٹیٹ بینک سرکل کراچی نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث ملزم کو گرفتار گرفتار کرلیا۔ ترجمان کے مطابق ملزم بلال سلیم کو کلفٹن (کراچی) سے گرفتار کیا گیا، جو حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث ہے۔ ملزم کے قبضے سے 55000 امریکی ڈالر برآمد ہوئے ہیں۔ ملزم بغیر لائسنس کرنسی ایکسچینج کا کاروبار کر رہا تھا۔
گرفتار ملزم سے موبائل فونز، حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی ایکسچینج سے متعلق شواہد برآمد کر لیے گئے ہیں۔ ملزم برآمد ہونے والی کرنسی کے حوالے سے حکام کو مطمئن بھی نہیں کر سکا، جسے باضابطہ گرفتار کرکے تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور ملزم کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔