Juraat:
2026-07-24@01:18:37 GMT

ایم کیو ایم نے بلدیاتی حکومتوں کیلئے اختیارات مانگ لیے

اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT

ایم کیو ایم نے بلدیاتی حکومتوں کیلئے اختیارات مانگ لیے

وزیراعظم سے خالد مقبول کی قیادت میں متحدہ قومی موومنٹ کے 7 رکنی وفد کی ملاقات
وزیراعظم کی ایم کیوایم کے بلدیاتی مسودے کو 27 ویں ترمیم میں شامل کرنیکی یقین دہائی

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے وزیراعظم شہباز شریف سے 27 ویں ترمیم میں بلدیاتی حکومتوں کو اختیارات دینے کا مطالبہ کردیا۔وزیراعظم محمد شہباز شریف سے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں متحدہ قومی موومنٹ کے 7 رکنی وفد نے ملاقات کی۔وفد میں گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری، وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال، اراکین قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار، جاوید حنیف خان، سید امین الحق اور خواجہ اظہار الحسن شامل تھے۔ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف سے ایم کیو ایم وفد کی ملاقات وزیراعظم ہاؤس میں ہوئی جس میں 27 ویں آئینی ترمیم سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا، ایم کو ایم رہنماؤں نے وزیراعظم سے 27 ویں آئینی ترمیم میں مقامی حکومتوں کو اختیارات دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ ملاقات میں وزیراعظم نے ایم کیوایم کے بلدیاتی مسودے کو 27 ویں ترمیم میں شامل کرنیکی یقین دہائی کرائی۔اس حوالے سے ایم کیو ایم ذرائع کا کہنا ہے کہ 27 ویں ترمیم میں ایم کیو ایم کے بلدیاتی آئینی ترمیمی مسودے کو مسلم لیگ ن مکمل سپورٹ کرے گی اور یہی ملاقات میں پارٹی کی پہلی ترجیح تھی۔دوسری جانب وزیراعظم سے ملاقات کے بعد گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا یے کہ وزیراعظم نے 27 ویں ترمیم پر اعتماد میں لیا، آئینی ترمیم پر وزیراعظم نے مکمل مشاورت کی جبکہ آئینی ترمیم میں بلدیاتی مسودے کے حوالے سے بھی مشاورت ہوئی۔واضح رہے کہ حکومتی اتحاد 27 ویں آئینی ترمیم پیش کرنے کی تیاری میں ہے اور ذرائع کا کہنا ہے کہ 27 ویں ترمیم رواں ماہ ہی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کرائی جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: ویں ترمیم میں ایم کیو ایم

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن