Islam Times:
2026-06-03@04:28:44 GMT

ایران کیخلاف پابندیاں ناکام، دشمن حیران و سرگرداں

اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT

ایران کیخلاف پابندیاں ناکام، دشمن حیران و سرگرداں

اسلام ٹائمز: ایران نہ صرف پابندیوں کے مرحلے سے گزر چکا ہے بلکہ اب ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں عالمی توانائی منڈی کے بڑے کھلاڑی بھی تہران کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔ تل ابیب کے ٹی وی اور سوشل میڈیا چینلوں سے لے کر لندن کے سرکاری نیٹ ورکس تک ایک ہی لہجہ سنائی دیتا ہے، ایران کی مزاحمت پر حیرت اور مغرب کی ناکامی پر خفگی کا اظہار۔ ان کے اپنے مبصرین کا اعتراف ہے کہ زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کی شکست دراصل اسلامی جمہوریہ ایران کی فعال مزاحمتی حکمتِ عملی کی کامیابی کا ثبوت ہے، ایسی حکمتِ عملی جس نے پیچیدہ ترین پابندیوں کے جال کو غیر مؤثر زنجیر میں بدل دیا۔ خصوصی رپورٹ: 

مغربی ذرائع ابلاغ اب بھی پابندیوں کی دوبارہ واپسی کی خبریں نشر کر رہے ہیں، لیکن انہی نیٹ ورکس کے ماہرین اب اس منصوبے کی ناکامی کا اعتراف کر رہے ہیں۔ بی بی سی اور ایران انٹرنیشنل کی تازہ رپورٹس کے مطابق ایران کے تیل فروخت کرنے کے نیٹ ورک نے پابندیوں کے اثرات کو تقریباً غیر مؤثر بنا دیا ہے، اور ٹرمپ دور کی پابندیوں کی پالیسی مکمل طور پر ناکامی سے دوچار ہو چکی ہے۔ ایران انٹرنیشنل اور بی بی سی جیسے ادارے، جو برسوں سے امریکہ کی ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کے موافق بیانیے کو آگے بڑھاتے رہے، اب مغرب کے لیے ایک تلخ حقیقت تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ پابندیاں اور دھمکیاں نہ صرف ایران کو نہیں روک سکیں، بلکہ عملاً ایران کی مقامی صلاحیتوں کی تقویت اور تیل برآمدات میں اضافہ کا باعث بنی ہیں۔

لندن اور تل ابیب کے اسٹوڈیوز میں نمایاں اضطراب:
گزشتہ دنوں ایران انٹرنیشنل اور حتیٰ کہ بی بی سی کے ماہرین و مبصرین نے اپنے تجزیوں میں حیرت اور برہمی کے ملے جلے لہجے میں اسنپ بیک (Snapback) پابندیوں کے بے اثر ہونے پر گفتگو کی ہے۔ ان کا سوال ہے کہ آخر یہ کیسے ممکن ہوا کہ سلامتی کونسل کی پابندیوں کی واپسی اور زیادہ سے زیادہ دباؤ کے تسلسل کے باوجود ایران نہ صرف تیل کی برآمد جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ اپنی آمدنی میں بھی اضافہ کر چکا ہے؟۔ مغربی تجزیہ کار یہ سمجھتے تھے کہ اقتصادی دباؤ سے ایران کے سیاسی نظام کو کمزور کیا جا سکتا ہے، اب ایران کی طرف سے زیادہ طاقت کیساتھ مزاحمت اور پابندیوں کو ناکام بنانے کے عملی طریقۂ کار کے سامنے ششدر ہیں۔ 

خود مغربی ماہرین تسلیم کر رہے ہیں کہ ٹرمپ کی پالیسی ایران کے رویّے میں تبدیلی نہیں لا سکی، بلکہ نتیجتاً واشنگٹن کی عالمی تنہائی میں اضافہ ہوا۔ تازہ اعدادوشمار کے مطابق 2025 میں ایران کی تیل برآمدات مسلسل بڑھ رہی ہیں اور بعض اندازوں کے مطابق پابندیوں سے قبل کی سطح کو بھی عبور کر چکی ہیں۔ مغربی میڈیا نے تیل بردار جہازوں کی نگرانی کرنے والی کمپنیوں کے ڈیٹا کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران نے مشرقی ممالک کی منڈیوں میں تیل فروخت کا ایک مضبوط نیٹ ورک قائم کر لیا ہے، یہ ایک ایسا نیٹ ورک ہے جو ان ہی کے الفاظ میں پابندیوں کو بے اثر کر چکا ہے۔

مغربی ماہرین کا اسنپ‌بیک کی ناکامی پر اعتراف:
واشنگٹن اور بعض یورپی حکومتیں اسنپ‌ بیک (Snapback) پابندیوں کو دھمکی کے طور پر پیش کر رہی تھیں، اب وہ خود مغربی تجزیاتی حلقوں میں بھی غیر سنجیدہ اور غیر مؤثر سمجھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کے نفاذ کے لیے کوئی عالمی اتفاقِ رائے موجود نہیں، اور چین، روس سمیت کئی علاقائی ممالک اس منصوبے کا حصہ بننے پر آمادہ نہیں۔ جبکہ ایران مخالف میڈیا بے بسی  اور پریشانی کے ساتھ "زیادہ سے زیادہ دباؤ" کی پالیسی کی ناکامی پر گفتگو کر رہا ہے، دوسری جانب مغربی سفارت کار بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ تہران سے نمٹنے کی حکمتِ عملی پر ازسرِ نو غور ضروری ہے۔ یہاں تک کہ بعض امریکی تھنک ٹینکس نے سفارش کی ہے کہ واشنگٹن کو پابندیوں کی بجائے تدریجی اور تعلقات کی حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہیے۔

ایران، ایک فعال اور پراعتماد کھلاڑی:
ایران کی چین اور روس کے ساتھ اقتصادی شراکت داریوں میں توسیع، نئی برآمدی راہداریوں کی ترقی، اور توانائی کے شعبے میں نجی و سرکاری کمپنیوں کی مؤثر فعالیت اس حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ ایران نہ صرف پابندیوں کے مرحلے سے گزر چکا ہے بلکہ اب ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں عالمی توانائی منڈی کے بڑے کھلاڑی بھی تہران کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔ تل ابیب کے ٹی وی اور سوشل میڈیا چینلوں سے لے کر لندن کے سرکاری نیٹ ورکس تک ایک ہی لہجہ سنائی دیتا ہے، ایران کی مزاحمت پر حیرت اور مغرب کی ناکامی پر خفگی کا اظہار۔ ان کے اپنے مبصرین کا اعتراف ہے کہ زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کی شکست دراصل اسلامی جمہوریہ ایران کی فعال مزاحمتی حکمتِ عملی کی کامیابی کا ثبوت ہے، ایسی حکمتِ عملی جس نے پیچیدہ ترین پابندیوں کے جال کو غیر مؤثر زنجیر میں بدل دیا۔


 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: زیادہ سے زیادہ دباؤ کی ناکامی پر پابندیوں کے پابندیوں کی کی پالیسی ایران کی رہے ہیں چکا ہے

پڑھیں:

فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام

سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر متعدد افراد اور سرگرم بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹس 30 مئی 2026 سے ایک ویڈیو شیئر کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل (کاؤنٹر انٹیلیجنس) میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

تاہم، حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے جس میں ایک بھارتی شہری تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں پٹ رہا ہے۔

یہ دعویٰ کیسے پھیلا؟

30 مئی کو ایک ایسا ایکس اکاؤنٹ (جو اپنی سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر ریاست مخالف معلوم ہوتا ہے) نے ایک ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ اس میں ایک پاکستانی فوجی افسر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے گروہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔

پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا:

’ایک پاکستانی آرمی کرنل کو تھائی لیڈی بوائز نے اس وقت بری طرح مارا پیٹا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سیاحت پر آیا تھا اور مقامی علاقے کی ایک کم عمر لڑکی سے ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘

اس پوسٹ کو42 ہزار 900 مرتبہ دیکھا گیا۔

اسی طرح 31 مئی کو ایک بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا:

’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے اس لیے مارا پیٹا کیونکہ انہوں نے طے شدہ رقم ادا نہیں کی۔‘

اس پوسٹ کو 14 لاکھ ویوز حاصل ہوئے۔

ایک اور بھارت نواز اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:

’پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر (ڈَرٹی ہیری)، ڈی جی آئی ایس آئی (کاؤنٹر انٹیلیجنس)، کو فوکیٹ میں کسی تلخ بحث کے بعد تھائی لیڈی بوائز نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔‘

اس پوسٹ کو 5 لاکھ 75 ہزار 800 مرتبہ دیکھا گیا۔

اسی دوران ایک اور بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ، جو عموماً پاکستان مخالف مواد شیئر کرتا ہے، نے 31 مئی کو ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا:

’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے وعدہ کی گئی رقم ادا نہ کرنے پر مارا پیٹا۔ اس سے قبل 2025 میں بھی ان کی اپنی کم عمر کزن کے ساتھ ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔‘

اس پوسٹ کو 1 لاکھ 40 ہزار ویوز ملے۔

اس کے علاوہ متعدد دیگر صارفین (جن میں اکثریت بھارتی معلوم ہوتی ہے) نے بھی اسی نوعیت کے دعووں کے ساتھ یہ ویڈیو شیئر کی، جن کی مجموعی ویوز 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد رہے۔

        View this post on Instagram                      

حقائق کی جانچ کیسے کی گئی؟

اس دعوے کی غیر معمولی مقبولیت اور عوامی دلچسپی کے باعث اس کی حقیقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کا آغاز کیا گیا۔

ویڈیو کے اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے گوگل ریورس امیج سرچ کی گئی، جس کے نتیجے میں یہی ویڈیو 3 جنوری 2026 کی ایک ایکس پوسٹ میں ملی، جسے ایک بھارتی صارف نے شیئر کیا تھا۔

اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا تھا:

’تھائی لینڈ میں ایک بھارتی شہری کی پٹائی۔ 52 سالہ بھارتی شخص راج جسوجا نے مبینہ طور پر 'سروسز' کی ادائیگی سے انکار کیا، جس پر خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق اسے علاج کے لیے پٹایا میموریل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔‘

"An Indian thrashed in Thailand." ????

A 52-year-old Indian man, Raj Jasuja, who refused to pay for "services," was beaten by a group of transwomen in Thailand.

As per reports, he has been hospitalized at Pattaya Memorial Hospital for treatment. pic.twitter.com/FIcR6iYdaF

— Suraj Kumar Bauddh (@SurajKrBauddh) January 3, 2026

 

دعوے کی مزید تصدیق کے لیے کی گئی کی ورڈز پر مبنی سرچ کے دوران 4 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک خبر سامنے آئی، جسے ہندوستان ٹائمز نے شائع کیا تھا اور جس میں یہی ویڈیو شامل تھی۔

خبر کی سرخی تھی:

’آن کیمرا: تھائی لینڈ میں 'سروس' کی ادائیگی سے انکار پر بھارتی شہری کو خواجہ سراؤں نے تشدد کا نشانہ بنا دیا‘

رپورٹ کے مطابق 52 سالہ بھارتی شہری راج جسوجا کو تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اس وقت مارا پیٹا جب اس نے مبینہ طور پر جنسی خدمات کے عوض طلب کی گئی رقم ادا کرنے سے انکار کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔

ریسکیو اہلکاروں نے راج جسوجا کو چہرے اور سر کے پچھلے حصے پر زخموں کی حالت میں پایا۔ موقع پر اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

جنوری 2026 میں شائع ہونے والی متعدد دیگر معروف بھارتی میڈیا رپورٹس، جن میں The Times of India، The Indian ExpressاورIndia Today شامل ہیں، نے بھی اسی واقعے کو تقریباً یکساں تصاویر اور تفصیلات کے ساتھ رپورٹ کیا۔

فیکٹ چیک کا نتیجہ: خبر غلط قرار

یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو میں پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے، جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے اور اس میں ایک بھارتی شہری کو تھائی خواجہ سراؤں کے ہاتھوں مبینہ طور پر ایسکارٹ سروس کی ادائیگی سے متعلق تنازع کے بعد تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

لہٰذا سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے اور ویڈیو کا میجر جنرل فیصل نصیر یا پاکستانی فوج سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔

یہ فیکٹ چیک اصل میں iVerify Pakistan کی جانب سے شائع کیا گیا تھا، جو Centre for Excellence in Journalism (CEJ-IBA) اور United Nations Development Programme (UNDP) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد