قلات میں بھارتی حمایت یافتہ 4 دہشتگرد ہلاک‘جنگی اسلحہ بھی برآمد
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوئٹہ(مانیٹرنگ ڈیسک)بلوچستان کے ضلع قلات میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں بھارتی حمایت یافتہ 4 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یکم نومبر کی رات سیکورٹی فورسز نے یہ کارروائی دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر عمل میں لائی گئی تھی۔اہم آپریشن کے دوران سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں بھارتی سرپرستی یافتہ 4 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ ہلاک شدگان دہشت گرد مختلف تخریبی اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران ہتھیار اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔ترجمان پاک فوج کے مطابق علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی بھارتی سرپرستی یافتہ دہشت گرد کو تلاش کر کے ختم کیا جا سکے۔ سیکورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عزمِ استحکام ویژن کے تحت انسدادِ دہشت گردی مہم پوری قوت سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ملک سے غیر ملکی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی۔دوسری جانب صدرِ زرداری نے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی بلوچستان کے ضلع قلات میںسیکورٹی فورسز کے کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن پر خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ انہوں نے 4 بھارتی پشت پناہی یافتہ دہشت گردوں کے خاتمے کو قومی سلامتی کے لیے اہم کامیابی قرار دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔