اقوام متحدہ کے بعد امریکا نے بھی شامی صدر احمد الشرع پر پابندیاں ختم کر دیں
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
امریکا نے شامی صدر احمد الشرع پر عائد پابندیاں ختم کر دیں، یہ اقدام اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے ایک روز قبل اسی نوعیت کے فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کی ویب سائٹ پر شائع نوٹس کے مطابق، امریکا نے احمد الشرع اور شام کے وزیر داخلہ انس خطاب پر عائد ’اسپیشلی ڈیزگنیٹڈ گلوبل ٹیررسٹ‘ کی حیثیت ختم کر دی ہے۔ احمد الشرع آئندہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے: شامی صدر احمد الشرع کا روس کا پہلا دورہ، بشارالاسد کی حوالگی کا مطالبہ متوقع
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے جمعرات کو امریکا کی پیش کردہ قرارداد کے حق میں ووٹ دیتے ہوئے احمد الشرع پر سے پابندیاں اٹھانے کی منظوری دی تھی۔
ذرائع کے مطابق یہ اقدام زیادہ تر علامتی نوعیت کا ہے، کیونکہ احمد الشرع کو ہر بار بیرونِ ملک دورے کے لیے استثنیٰ دیا جاتا رہا ہے۔ اب ان پر سے اثاثوں کے منجمد کیے جانے اور اسلحے کی پابندی بھی ختم کر دی جائے گی۔
احمد الشرع ماضی میں القاعدہ سے منسلک رہ چکے ہیں، تاہم ان کے گروپ ’حیات تحریر الشام (HTS)‘ کو واشنگٹن نے جولائی میں دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے خارج کر دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: دمشق میں عبوری پارلیمنٹ کے لیے ووٹنگ مکمل، صدر احمد الشراع کو مزید اختیارات حاصل
دمشق کے مطابق شامی صدر اپنے دورۂ واشنگٹن کے دوران باقی ماندہ پابندیوں کے خاتمے، تعمیرِ نو اور انسدادِ دہشت گردی کے امور پر بات چیت کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احمد الشرع امریکا شام.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: احمد الشرع امریکا احمد الشرع
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔