وحدت ایمپلائزونگ سندھ کی صوبائی شوریٰ کا اجلاس، کاشف نقوی صوبائی صدر منتخب
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
مرکزی صدر وحدت ایمپلائزونگ سلیم عباس صدیقی نے کہا کہ وحدت ایمپلائز ونگ پاکستان کے محروم ملازمین کی حقیقی نمائندہ جماعت ہے جس کا کام پاکستان بھر کے مزدوروں کی آواز بننا اور مزدوروں کے حقوق کا حصول اس کا مقصد ہے، اس لیے یہ پاکستان میں مقبولیت کی طرف جا رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وحدت ایمپلائز ونگ پاکستان صوبہ سندھ کی صوبائی شوری کا اجلاس مرکزی صدر وحدت ایمپلائز ونگ پاکستان سلیم عباس صدیقی کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ اجلاس سے مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی آرگنائزر علامہ مقصود علی ڈومکی، صوبائی رہنما چوہدری اظہر حسین، عبداللہ بلوچ، سید کاشف رضا نقوی، سید عثمان حیدر جعفری، اشفاق حسین اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ اجلاس میں سید کاشف نقوی کو وحدت ایمپلائزونگ سندھ کا صوبائی صدر، اشفاق حسین اور منصب علی کربلائی کو صوبائی نائب صدر اور سید عثمان حیدر جعفری کو صوبائی جنرل سیکرٹری منتخب کیا گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مرکزی صدر وحدت ایمپلائزونگ سلیم عباس صدیقی نے کہا کہ وحدت ایمپلائز ونگ پاکستان کے محروم ملازمین کی حقیقی نمائندہ جماعت ہے جس کا کام خصوصا پاکستان بھر کے مزدوروں کی آواز بننا ہے اور مزدوروں کے حقوق کا حصول اس کا مقصد ہے، اس لیے یہ پاکستان میں مقبولیت کی طرف جا رہی ہے۔ مزدور کے حقوق کی بحالی، پینشن رول کا خاتمہ اور حقیقی مسائل کا واحد حل اسی میں پوشیدہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وحدت ایمپلائز ونگ پاکستان وحدت ایمپلائزونگ
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔