ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سندھ نے کہا کہ عوام صحت، تعلیم، روزگار اور صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں لیکن حکمرانوں کے محلات اور بینک بیلنس میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جماعتِ اسلامی سندھ کے امیر کاشف سعید شیخ نے کہا ہے کہ عوام کو سبزباغ اور سنہرے خواب دکھانے والے حکمرانوں نے لوگوں کو مہنگائی، بیروزگاری، دہشتگردی اور بے امنی کے تحفوں کے سوا کچھ بھی نہیں دیا ہے جوکہ حکومتی نااہلی اورحکمرانوں کے دعوؤں کی سراسر نفی ہے، فارم 47 کی پیداوار حکمران عوام سے کیا گیا ایک وعدہ بھی پورا نہ کرسکے، کراچی سے کشمور پورا صوبہ لاوارثی اور محرومیوں کی عملی تصویر بنا ہوا ہے، عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے، غریب اور امیر کے لئے الگ الگ قانون ہونے کی وجہ سے ان محرمیوں میں مزید اضافہ کیا ہے، تمام مسائل کی جڑ کرپشن کمیشن کا گٹھ جوڑ ہے، کرپشن سے پاک پاکستان ہی ملک و قوم کی تقدیر بدل سکتا ہے، جماعت اسلامی پاکستان کا ”بدلو نظام اجتماع عام“ موجودھ گھٹن اور سیاسی و معاشی بے یقینی کی صورتحال میں تبدیلی کی نوید ثابت ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع دادو اور قنبر شہداد کوٹ کے ہر سطح کے ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ 

کاشف سعید شیخ نے مزید کہا کہ عوام صحت، تعلیم، روزگار اور صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں لیکن حکمرانوں کے محلات اور بینک بیلنس میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے، کراچی تا کشمور وکلاء کے حالیہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کے گروپ کی سندھ پر سترہ سالوں سے قابض ٹولے کیلئے نوشہ دیوار ہے، وکلاء مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے صوبائی وزیر داخلہ کی دھونس، دھاندلی اور ہر قسم کی لالچ کو ٹھکرا کر سندھ دھرتی سے وفادار وکلاء کی جیت میں کردار ادا کیا ہے، عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، پرامن، مستحکم اور خوشحال پاکستان کیلئے کرپشن و دہشتگردی کے شیطانی کٹھ جوڑ کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے۔ صوبائی امیر نے ضلعی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ مینار پاکستان اجتماع عام میں زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کی شرکت کو یقینی بنائیں کیونکہ یوتھ امید پاکستان ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ