کرپشن سے پاک پاکستان ہی ملک و قوم کی تقدیر بدل سکتا ہے، کاشف شیخ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سندھ نے کہا کہ عوام صحت، تعلیم، روزگار اور صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں لیکن حکمرانوں کے محلات اور بینک بیلنس میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جماعتِ اسلامی سندھ کے امیر کاشف سعید شیخ نے کہا ہے کہ عوام کو سبزباغ اور سنہرے خواب دکھانے والے حکمرانوں نے لوگوں کو مہنگائی، بیروزگاری، دہشتگردی اور بے امنی کے تحفوں کے سوا کچھ بھی نہیں دیا ہے جوکہ حکومتی نااہلی اورحکمرانوں کے دعوؤں کی سراسر نفی ہے، فارم 47 کی پیداوار حکمران عوام سے کیا گیا ایک وعدہ بھی پورا نہ کرسکے، کراچی سے کشمور پورا صوبہ لاوارثی اور محرومیوں کی عملی تصویر بنا ہوا ہے، عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے، غریب اور امیر کے لئے الگ الگ قانون ہونے کی وجہ سے ان محرمیوں میں مزید اضافہ کیا ہے، تمام مسائل کی جڑ کرپشن کمیشن کا گٹھ جوڑ ہے، کرپشن سے پاک پاکستان ہی ملک و قوم کی تقدیر بدل سکتا ہے، جماعت اسلامی پاکستان کا ”بدلو نظام اجتماع عام“ موجودھ گھٹن اور سیاسی و معاشی بے یقینی کی صورتحال میں تبدیلی کی نوید ثابت ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع دادو اور قنبر شہداد کوٹ کے ہر سطح کے ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
کاشف سعید شیخ نے مزید کہا کہ عوام صحت، تعلیم، روزگار اور صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں لیکن حکمرانوں کے محلات اور بینک بیلنس میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے، کراچی تا کشمور وکلاء کے حالیہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کے گروپ کی سندھ پر سترہ سالوں سے قابض ٹولے کیلئے نوشہ دیوار ہے، وکلاء مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے صوبائی وزیر داخلہ کی دھونس، دھاندلی اور ہر قسم کی لالچ کو ٹھکرا کر سندھ دھرتی سے وفادار وکلاء کی جیت میں کردار ادا کیا ہے، عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، پرامن، مستحکم اور خوشحال پاکستان کیلئے کرپشن و دہشتگردی کے شیطانی کٹھ جوڑ کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے۔ صوبائی امیر نے ضلعی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ مینار پاکستان اجتماع عام میں زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کی شرکت کو یقینی بنائیں کیونکہ یوتھ امید پاکستان ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔