فرنچائزز مالکان کی پی ایس ایل میں دو نئی ٹیمیں شامل کرنے کی مخالفت
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائزز نے پی سی بی کی جانب سے لیگ میں مزید دو نئی ٹیموں کے اضافے کی تجویز پر ناراضی کا اظہار کر دیا۔ذرائع کے مطابق پی ایس ایل فرنچائزز مالکان نے واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فی الحال ٹیموں کی تعداد نہیں بڑھائی جانی چاہیے۔فرنچائز مالکان کا کہنا ہے کہ پہلے موجودہ چھ ٹیموں کو مالی اور آپریشنل طور پر مستحکم کیا جائے بعد ازاں صورتحال بہتر ہونے پر ٹیموں کی تعداد بڑھانے پر غور کیا جائے۔فرنچائزز نے موقف اختیار کیا کہ ٹی 20 ورلڈ کپ اور متعدد انٹرنیشنل لیگز کے شیڈول کے باعث پی ایس ایل کے برانڈ اور ریونیو پر اثر پڑ سکتا ہے۔کوئٹہ گلیڈیئٹرز کے مالک ندیم عمر نے بھی تصدیق کی ہے کہ ابھی تک ویلیوایشن رپورٹ موصول نہیں ہوئی جس کے بغیر ٹیموں میں اضافے کا فیصلہ قبل از وقت ہوگا، پی سی بی کے ساتھ معاملات افہام و تفہیم کے ساتھ حل کیے جائیں گے۔فرنچائزز مالکان نے پی سی بی کو یہ تجویز بھی دی ہے کہ مستقبل میں ڈیلنگ ڈالرز کی بجائے پاکستانی روپے میں کی جائے تاکہ مالی دباؤ اور شرح مبادلہ کے اتار چڑھاؤ کا مسئلہ کم ہو۔ذرائع کے مطابق پی سی بی معاملے پر مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے اور حتمی فیصلہ جلد متوقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پی ایس ایل پی سی بی
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔