وزیراعلی ٰکی منظوری سےپنجاب کےدیہات کومثالی گاؤ ں بنایاجائےگا د
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
سٹی42: وزیراعلیٰ کی منظوری سے پنجاب کے دیہات کو مثالی گاؤں بنایا جائے گا۔ دیہات میں سیوریج، ڈرین اور دیگر میونسپل خدمات مہیا کی جائیں گی۔
پنجاب رورل میونسپل سروسز کمپنی منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ پہلے مرحلے میں صوبے کے 414 دیہات کو مثالی گاؤں بنایا جا رہا ہے۔ ترجمان کے مطابق ماڈل ویلیجز پروگرام تعطل کا شکار نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں کو منصوبے سے خارج کیا گیا ہے۔
ڈالر کی قیمت میں کمی
محکمہ بلدیات کے مطابق 237 دیہات کے لیے 57 منظور شدہ ذیلی سکیمیں ہیں، جبکہ مزید 124 دیہات کی 29 سکیموں کے ٹینڈر 10 نومبر کو کھولے جائیں گے۔ باقی 113 گاؤں کے لیے 28 سکیموں کے ٹینڈر اگلے ہفتے جاری کیے جائیں گے۔ مزید 40 دیہات کے لیے سکیموں کے پی سی ون محکمہ بلدیات جمع کرائے گا، جبکہ بقیہ 22 ذیلی سکیمیں 97 گاؤں کے لیے نومبر میں ہی جمع کرا دی جائیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔