وزیر دفاع سے قائم مقام امریکی ناظم الامور نٹالی بیکرکی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان باہمی احترام اور استحکام اور خوشحالی کے مشترکہ مقاصد پر مبنی دیرینہ تعلقات ہیں۔ خواجہ محمد آصف سے امریکی سفارتخانہ کی قائم مقام ناظم الامور نٹالی بیکر نے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان باہمی احترام اور استحکام اور خوشحالی کے مشترکہ مقاصد پر مبنی دیرینہ تعلقات ہیں۔ فریقین نے دوطرفہ تعلقات کی مثبت رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا اور دونوں ممالک کے مابین تعلقات کی بحالی اور بڑھتی ہوئی گرمجوشی کو سراہا۔ ملاقات میں افغانستان کی صورتحال پر بھی بات چیت ہوئی۔ انہوں نے ایک پرامن، مستحکم اور محفوظ افغانستان کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علاقائی امن و استحکام کے تحفظ کے لئے افغان سرزمین سے پیدا ہونے والے چیلنجوں سے مؤثر طریقے سے نمٹا جانا چاہئے۔ ملاقات میں دو طرفہ تعلقات کی موجودہ مثبت رفتار کو برقرار رکھنے اور متعدد شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کا اعادہ کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔