غربت کم کرنے کیلیے برآمدات کو بڑھانا ہوگا، وزیر سرمایہ کاری
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (نمائندہ جسارت) وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان کو ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمدات کو بڑھانا ہوگا، ویلیو ایڈڈ برآمدات سے غربت کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے ان خیالات کا اظہار پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام 28 ویں پائیدار ترقی کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے ملک کو معاشی استحکام کی راہ پر گامزن کیا ہے اور وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں وفاقی حکومت نے گزشتہ 20 ماہ کے دوران معیشت سمیت مختلف شعبوں میں کئی نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو پیداواری صلاحیت بڑھانے کی ضرورت ہے اور حکومت براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کے فروغ کے لیے جامع حکمت عملی کے تحت کوشاں ہے۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان میں گزشتہ مالی سال کے دوران 2.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وزیر سرمایہ کاری کہ پاکستان وفاقی وزیر نے کہا کہ برا مدات
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔