data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا نے شام کے دارالحکومت دمشق میں اپنے فوجی اڈے کے قیام کے لیے تیاری شروع کر دی۔ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکا شام اور اسرائیل کے درمیان بھی تعلقات کی بہتری کے لیے کوشاں ہے۔ منصوبے کے مطابق یہ موقع ہوگا کہ شام کے دارالحکومت دمشق میں امریکی فوج تعینات کی جائے گی۔ امریکا چاہتا ہے کہ اپنے اڈے کے ذریعے اسرائیل اور شام کے درمیان معاہدے کی نگرانی خود کرے ۔ تاہم امریکی دفاعی ادارے پینٹاگون اور امریکی وزارت خارجہ نے اس معاملے پر ابھی تبصرہ نہیں کیا ،جب کہ شام کے صدر کے دفتر اور وزارت دفاع نے بھی اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات سے قبل شامی صدر احمد الشرع پر اقوام متحدہ نے پابندیاں ختم کر دیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شامی صدر احمد الشرع اور وزیر داخلہ انس حسن پر پابندیاں ہٹا دیں ہیں۔ پابندیاں ہٹانے کے لیے قرارداد امریکا نے پیش کی۔رائے شماری میں 14ارکان نے حمایت کی تاہم چین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ اس سے قبل دونوں رہنماؤں کے اثاثے منجمد، اسلحہ اور سفر پر پابندیاں عائد تھیں۔ القاعدہ سے منسلک ہونے کہ وجہ سے الشرع اور دیگر رہنماؤں پر 2014 سے اقوام متحدہ کی پابندیاں عائد تھیں، پابندیاں ختم ہونے سے شام کو معاشی بحالی، تعمیر نو اور بین الاقوامی تعلقات میں آسانی ہوگی۔ یاد رہے کہ شام میں بشار الاسد کا 13 سالہ دورِ حکومت دسمبر 2024 میں اس وقت ختم ہوا جب احمد الشرع کی قیادت میں تحریر الشام نامی تنظیم نے دمشق پر قبضہ کر لیا تھا۔ بشار الاسد کے خاتمے کے بعد عالمی برادری نے شام کی معیشت اور انسانی حالات بہتر بنانے کے لیے پابندیوں میں نرمی شروع کر دی۔ امریکا نے مئی 2025 میں سعودی عرب میں الشرع سے ملاقات کے بعد شام پر اپنی پابندیاں اٹھانے کا اعلان کیا تھا، جو ایک بڑی پالیسی تبدیلی تھی۔

انٹرنیشنل ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: شام کے کے لیے

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان