شام میں امریکی فوجی اڈے کا منصوبہ‘ طیارے کی آزمایشی لینڈنگ
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا نے شام کے دارالحکومت دمشق میں اپنے فوجی اڈے کے قیام کے لیے تیاری شروع کر دی۔ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکا شام اور اسرائیل کے درمیان بھی تعلقات کی بہتری کے لیے کوشاں ہے۔ منصوبے کے مطابق یہ موقع ہوگا کہ شام کے دارالحکومت دمشق میں امریکی فوج تعینات کی جائے گی۔ امریکا چاہتا ہے کہ اپنے اڈے کے ذریعے اسرائیل اور شام کے درمیان معاہدے کی نگرانی خود کرے ۔ تاہم امریکی دفاعی ادارے پینٹاگون اور امریکی وزارت خارجہ نے اس معاملے پر ابھی تبصرہ نہیں کیا ،جب کہ شام کے صدر کے دفتر اور وزارت دفاع نے بھی اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات سے قبل شامی صدر احمد الشرع پر اقوام متحدہ نے پابندیاں ختم کر دیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شامی صدر احمد الشرع اور وزیر داخلہ انس حسن پر پابندیاں ہٹا دیں ہیں۔ پابندیاں ہٹانے کے لیے قرارداد امریکا نے پیش کی۔رائے شماری میں 14ارکان نے حمایت کی تاہم چین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ اس سے قبل دونوں رہنماؤں کے اثاثے منجمد، اسلحہ اور سفر پر پابندیاں عائد تھیں۔ القاعدہ سے منسلک ہونے کہ وجہ سے الشرع اور دیگر رہنماؤں پر 2014 سے اقوام متحدہ کی پابندیاں عائد تھیں، پابندیاں ختم ہونے سے شام کو معاشی بحالی، تعمیر نو اور بین الاقوامی تعلقات میں آسانی ہوگی۔ یاد رہے کہ شام میں بشار الاسد کا 13 سالہ دورِ حکومت دسمبر 2024 میں اس وقت ختم ہوا جب احمد الشرع کی قیادت میں تحریر الشام نامی تنظیم نے دمشق پر قبضہ کر لیا تھا۔ بشار الاسد کے خاتمے کے بعد عالمی برادری نے شام کی معیشت اور انسانی حالات بہتر بنانے کے لیے پابندیوں میں نرمی شروع کر دی۔ امریکا نے مئی 2025 میں سعودی عرب میں الشرع سے ملاقات کے بعد شام پر اپنی پابندیاں اٹھانے کا اعلان کیا تھا، جو ایک بڑی پالیسی تبدیلی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔
چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔