Jasarat News:
2026-06-03@04:46:55 GMT

سعودی عرب کو امریکا سے ایف 35 طیارے ملنے کا امکان

اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا کی جانب سے سعودی عرب کو جدید ترین لڑاکا طیارے ایف35 فروخت کرنے پر غور جاری ہے، جس کے تحت 48 جدید اسٹیلتھ طیارے سعودی فضائیہ کے بیڑے میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔ یہ پیش رفت مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی عرب نے باضابطہ طور پر ایف 35 طیارے خریدنے کی درخواست کی تھی، جس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے اس درخواست پر تفصیلی جائزہ شروع کر دیا ہے۔ یہ معاہدہ اربوں ڈالر مالیت کا ہو گا اور اس کے لیے امریکی کابینہ اور کانگریس کی حتمی منظوری درکار ہوگی۔ اب تک پینٹاگون، وائٹ ہاؤس اور محکمہ خارجہ کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم امریکی دفاعی حکام کے مطابق، پینٹاگون ابھی اس ممکنہ دفاعی فروخت کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ معاہدہ امریکی مفادات اور علاقائی سلامتی کے تقاضوں کے مطابق ہو۔ واضح رہے کہ سعودی عرب نے سال کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے براہِ راست درخواست کی تھی کہ اسے ایف 35 طیارے فراہم کیے جائیں۔ یہ طیارے امریکی دفاعی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کی تیار کردہ جدید ترین جنگی مشینیں ہیں، جو اپنی ریڈار سے پوشیدہ رہنے کی صلاحیت اور اعلیٰ جنگی نظام کی بدولت دنیا بھر میں منفرد مقام رکھتی ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ طے پاتا ہے تو سعودی عرب مشرقِ وسطیٰ میں ایف 35 طیاروں کا مالک بننے والا پہلا عرب ملک بن جائے گا، جو خطے میں طاقت کے توازن پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ابھی تک اس معاہدے پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا اور مستقبل میں اس کے ممکنہ اثرات، اسرائیل کے ساتھ امریکی دفاعی تعلقات سمیت کئی پہلوؤں سے مشاورت جاری ہے۔

انٹرنیشنل ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے مطابق

پڑھیں:

سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان

خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔

خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان