امیر قطر نے پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کو خوش آئند اور بروقت قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
امیر قطر نے پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کو خوش آئند اور بروقت قرار دے دیا۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے دوحہ میں ملاقات کی جس میں بلاول بھٹو زرداری اور پاکستانی سفیر بھی موجود تھے جبکہ اس دوران صدر نے امیر قطر کو حکومت پاکستان اور عوام کی جانب سے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا۔
اعلامیے کے مطابق اس اہم ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا جبکہ امیر قطر نے پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کو خوش آئند اور بروقت قرار دیا۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے سی پیک کے کامیاب نفاذ سمیت ہر مشکل گھڑی میں تعاون کرنے پر چین کا شکریہ ادا کیا۔
صدر زرداری نے دوحہ مذاکرات کی میزبانی اور افغانستان سے متعلق قطر کے کردار کو سراہا۔ امیر قطر نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور افغانستان موجودہ مسائل حل کر کے چیلنجز پسِ پشت ڈال دیں گے۔
صدر مملکت نے دفاع، دفاعی پیداوار، زراعت اور غذائی تحفظ میں تعاون بڑھانے کی تجویز دی جس پر امیر قطر نے تعاون بڑھانے پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری رابطوں کی ہدایت کی۔
اعلامیے کے مطابق شیخ تمیم بن حمد الثانی نے پاکستانی کمیونٹی کے کردار کی تعریف کی اور پاکستانی کمیونٹی کی تعداد میں خاطر خواہ اضافے کی خواہش کا اظہار کیا۔
اس موقع پر امیر قطر نے کہا کہ پاکستان منفرد حیثیت رکھتا ہے جو چین، مغرب اور خلیجی ممالک سے بیک وقت تعلقات رکھتا ہے، قطر کو پاکستان اور اس کی کامیابیوں پر فخر ہے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ صدر زرداری نے امیر قطر کو دورۂ پاکستان کی دعوت دی جسے امیر قطر نے قبول کیا اور آئندہ سال پاکستان کا دورہ کرنے کا اعلان کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پاکستان اور نے پاکستان
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔