افغانستان میں پختون برتری کا خاتمہ ہوا تو ذمہ دار کون ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
افغانستان کے ساتھ تجارتی راستوں کی بندش پر محمود خان اچکزئی نے تنقید کی ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں پوچھا کہ تم افغانستان کے خلاف اتنا جارحانہ انداز کیوں اپنائے ہوئے ہو۔ اس نے کیا کیا ہے؟ 3 دن پہلے تم انڈیا سے لڑ رہے تھے، پھر بھی کہتے ہو کہ ہم اس سے بات چیت کرنے کو تیار ہیں۔ تو افغانستان سے بات چیت کیوں نہیں۔
مشر محمود خان کا کہنا تھا کہ ہمسائے تبدیل نہیں کیے جا سکتے ان کے ساتھ مل جل کر امن سے ہی رہا جا سکتا ہے۔ اس سے پہلے محمود خان نے پاک افغان جھڑپوں کے وقت اس کو پھیلا کر جنگ بننے سے روکنے کا مشورہ دیا تھا۔ استنبول مذاکرات ناکام ہوتے لگے تب بھی انہوں نے افسوس کا اظہار کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاک افغان مذاکرات کی ناکامی، افغان طالبان کو فیل کرے گی
مولانا فضل الرحمان نے بھی افغانستان پر محمود خان اچکزئی سے ملتی جلتی ٹون اپنا رکھی ہے۔ مولانا پاکستان کی خارجہ پالیسی پر تنقید کر رہے ہیں۔ جنگ کے نقصانات اور فوجی انداز میں حل کرنے کی کوشش کی مذمت کرتے پائے جاتے ہیں۔ مولانا نے پاک افغان جھڑپوں کے بعد ثالثی کردار ادا کرنے کی بھی پیشکش کی۔
مولانا افغانستان سے جنگ کے خطرات بتاتے ہوئے افغانستان کو برطانیہ ، روس اور امریکا جیسی سپر طاقتوں کا قبرستان بتاتے ہوئے اس آپشن سے گریز کا مشورہ دیتے ہیں۔
یہ دونوں پاکستان کے اہم پختون راہنما ہیں جن کی سیاست پختون قوم پرستی اور مذہبی فکر کی نمائندہ ہے۔ اسفندیار ولی خان گھر بیٹھ گئے ہیں جو بدقسمتی کی بات ہے اور وہ مستقل خاموش ہیں۔ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی مقبول ترین جماعت ہے اور صوبائی حکومت اس کے پاس ہے۔ پی ٹی ائی افغان مہاجرین کو نکالنے کے خلاف ہے۔ کپتان دہشتگردوں کے خلاف آپریشن، ڈرون کے استعمال اور افغانستان کے اندر مسلح گروپوں کو نشانہ بنانے کے بھی خلاف ہے۔ پشتون تحفظ موومنٹ پاکستان سے زیادہ افغان طالبان کے ساتھ کھڑی دکھائی دیتی ہے ۔ پی ٹی ایم نظریاتی طور پر افغان طالبان کی مخالف ہو کر بھی اس وقت ان کی حمایت کرتی دکھائی دیتی ہے۔
یہ پاکستان کی پختون بیلٹ کی نمایاں سوچ کے مختلف رنگ ہیں جو سارے ہی افغان مسلے پر ریاستی مؤقف سے دور کھڑے ہیں۔ مولانا اور اچکزئی دونوں بہت سمجھدار سیاسی راہنما ہیں، یہ ہو نہیں سکتا کہ آپ ان سے بات کرنا چاہیں اور وہ سننے سے انکار کریں۔ آپ منطق دیں وہ انہیں سمجھ آئے اور یہ اس سے انکاری ہو جائیں۔ تو لگتا یہی ہے کہ دونوں سے ہی جاری صورتحال پر رابطہ نہیں کیا گیا یا دونوں کو ہی ان کے حال پر چھوڑا گیا ہے۔
مزید پڑھیے: افغانوں کو نہیں، بُرے کو بُرا کہیں
محمود خان اچکزئی جب افغان طالبان کو مخاطب کرتے ہیں تو ملا صیب کہہ کر شروع ہوتے ہیں۔ محمود خان کا مشہور ڈائلاگ ’زہ ملا صاحب تہ ہم وایم، ورورہ خدای تہ وگوری لیونی دَ زان سہ مہ جوڑوی‘۔ اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ ’میں ملا صیب سے بھی کہتا ہوں کہ بھائی خدا کو مانو پاگل پن مت کرو‘۔ یہ آج کل دوبارہ آنا چاہیے تھا لیکن نہیں آیا۔
ڈیفنس منسٹر خواجہ آصف نے افغانستان کے ساتھ تناؤ کے دوران بہت جارحانہ بیانات دیے۔ وہ سفارتی لب و لہجہ اور انداز برقرار رکھے بغیر ہے بے دریغ بولتے رہے۔ ذبیح اللہ مجاہد نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ وہ اب خواجہ آصف کے بیان کا جواب نہیں دیں گے۔ خواجہ صاحب پوری پاکستانی قوم کی نمائندگی نہیں کرتے۔ انہوں نے اگر ٹوئٹ کی ہے تو اس کا سرکاری طور پر جواب دینا ضروری نہیں۔ ہمیں معلوم ہے پاکستانی قوم جنگ کے خلاف ہے۔ اس بیان کو آپ جدھر مرضی فٹ کر لیں۔ خواجہ صاحب کے مداح ہیں تو کہہ لیں کہ انہوں نے لاجواب کر دیا، پختون سیاسی قیادت کی پوزیشن دیکھیں تو لگتا اس کا خیال کیا جا رہا۔ خود افغان طالبان کی ماؤتھ پیس پاکستان میں سول ملٹری سوچ میں فرق کو اپنی میڈیا رپورٹس میں نمایاں کر رہے ہیں۔
پاکستان میں پختون لیڈر شپ ایک خاص مؤقف اپنائے ہوئے ہے۔ لگتا یہ ہے کہ ان کو صورتحال پر بریف نہیں کیا گیا یا وہ کیا کہہ رہے اس سے حوالدار بشیر کو کوئی غرض ہی نہیں۔ فور اسٹار جنرل احسان افغان ایشو پر بولے ہیں۔ تھری اسٹار جنرل انعام الحق اور جنرل طارق خان نے اس پر بات کی ہے۔ میجر عامر بھی اس پر بہت منطقی انداز میں بولے ہیں ۔ پشاور سے کئی پختون یو ٹیوبر مسلسل معتدل رہتے ہوئے بھی پاکستانی مؤقف پر ہی اصرار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان سے لڑائی افغان طالبان کی تنہائی میں اضافہ
جنرل طارق خان نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ ڈیورنڈ لائن کو یہ مانتے نہیں ہیں۔ افغانستان میں پختون کم ہیں اور پاکستان میں زیادہ ہیں۔ تو پھر یہ سرحد اٹھا کر آمو (سنٹرل ایشیا) پر ہی لے جاتے ہیں۔ ریٹائرڈ فوجی شاید سیکیورٹی فورسز کی ایک 3 اور ایک 2 کے تناسب سے دی جانے والی جان کی قربانیوں کو دیکھ کر بولنا شروع ہوئے ہیں۔
لگتا یہ ہے کہ افغان طالبان صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگانے میں ناکام ہیں ۔ افغان طالبان کی پالیسی افغانستان میں صدیوں سے چلی آ رہی پختون برتری کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہے۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے اس کے لیے 3 دہائیوں کی تاریخ سے ہی اشارے مل سکتے۔ افغانستان کا ڈیموگریفک نقشہ دیکھ لیں۔
یہ بھی پڑھیے: ڈیجیٹل اکانومی پاکستان کا معاشی سیاسی لینڈ اسکیپ بدل دے گی
ایسا ہوا تو بدقسمتی یہ ہو گی کہ پاکستان کی پختون قیادت اس نقصان کا بروقت اندازہ لگانے میں ناکام رہنے کے الزام کا نشانہ بنے گی۔ کوئی ایک بھی ملا صیب پاگل پن مت کرو والی بات تب نہیں کہہ رہا جب اس کی ضرورت ہے۔ دوشنبے میں پاکستانی مندوب افغانستان پر اجلاس کو بتا چکے ہیں کہ دہشتگرد حملوں میں پکڑے اور مارے جانے والوں میں 70 فیصد افغان ہوتے ہیں۔ یہ وہ سیکیورٹی چیلنج ہے جس کو فوجی انداز میں ہی حل کرنے کا شاید سوچ لیا گیا ہے۔ یہ فوجی انداز سے حل ہوا تو اس کے کریڈٹ میں پختون لیڈر شپ شریک نہیں ہو گی۔ پختون کی افغانستان میں برتری کا خاتمہ ہوا تو دہائیوں تک اس کی ذمہ دار قرار پاتی رہے گی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
وسی بابا نام رکھا وہ سب کہنے کے لیے جن کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ سیاست، شدت پسندی اور حالات حاضرہ بارے پڑھتے رہنا اور اس پر کبھی کبھی لکھنا ہی کام ہے۔ ملٹی کلچر ہونے کی وجہ سے سوچ کا سرکٹ مختلف ہے۔ کبھی بات ادھوری رہ جاتی ہے اور کبھی لگتا کہ چپ رہنا بہتر تھا۔
افغانستان افغانستان میں پختون برتری پختون ذبیح اللہ مجاہد ڈیورنڈ لائن محمود خان اچکزئی وزیر دفاع خواجہ آصف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان افغانستان میں پختون برتری پختون ذبیح اللہ مجاہد ڈیورنڈ لائن محمود خان اچکزئی وزیر دفاع خواجہ ا صف محمود خان اچکزئی افغان طالبان کی افغانستان میں افغانستان کے ان کے ساتھ میں پختون انہوں نے کے خلاف ہوا تو
پڑھیں:
بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔
اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔
مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU
— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔
ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔
انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو
چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز