مسافر اور کارگو ٹرینوں کا خوفناک تصادم، 11 افراد جاں بحق، 20 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
بھارت کے وسطی حصے میں ایک خوفناک ٹرین حادثے میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہو گئے جب ایک مقامی مسافر ٹرین منگل کی رات ایک کارگو ٹرین سے ٹکرا گئی۔
یہ حادثہ شہر بیلاس پور کے قریب پیش آیا، جو ریاست چھتیس گڑھ کے دارالحکومت رائے پور سے تقریباً 115 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔ حکام کے مطابق، مسافر ٹرین نے کارگو ٹرین کو پیچھے سے ٹکر ماری، جس کے نتیجے میں ایک مسافر ڈبہ کارگو ٹرین کے ایک ویگن کے اوپر چڑھ گیا۔
یہ بھی پڑھیے: کشتی حادثہ، تعزیت کے لیے جانے والے 100 سے زائد افراد ڈوب گئے، 60 ہلاکتوں کی تصدیق
ریسکیو ٹیموں نے کئی گھنٹوں کی کوششوں کے بعد ڈبے کو زمین پر اتارا اور آئرن کٹرز کی مدد سے اسے کاٹ کر کھولا، جہاں مزید تین لاشیں برآمد ہوئیں۔ ریسکیو اور امدادی کارروائیاں مکمل کر لی گئیں، اور حادثہ زدہ پٹڑی پر ٹرینوں کی آمدورفت بحال کر دی گئی۔
حکام کے مطابق، ہلاک ہونے والوں میں مسافر ٹرین کا ڈرائیور بھی شامل ہے جبکہ اس کی معاون خاتون ڈرائیور شدید زخمی ہیں اور ایک نجی اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ حادثے میں تقریباً 20 افراد زخمی ہوئے جنہیں قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
بھارتی ریلوے نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور جاں بحق و زخمی افراد کے اہل خانہ کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: جام شورو: مسافر بس کو المناک حادثہ، 16 جاں بحق، 30 زخمی
بھارت میں ٹرین حادثے کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں۔ ملک بھر میں روزانہ تقریباً 1 کروڑ 20 لاکھ افراد 14 ہزار ٹرینوں پر سفر کرتے ہیں، جو 64 ہزار کلومیٹر طویل ریلوے نیٹ ورک پر چلتی ہیں۔ اگرچہ حکومت نے ریلوے سیفٹی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں، لیکن ہر سال سینکڑوں حادثات پیش آتے ہیں، جنہیں اکثر انسانی غلطی یا پرانے سگنلنگ سسٹم کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔
گزشتہ سال مشرقی بھارت میں ایک خوفناک ٹرین تصادم میں 280 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، جو ملک کی تاریخ کے بدترین ریلوے حادثات میں سے ایک تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت ٹریفک ٹرین حادثہ ریل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت ٹریفک ریل کارگو ٹرین کے لیے
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
سری نگر(آئی پی ایس )مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹ کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک 96 ہزار 499 افراد شہید جبکہ ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا.اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ اور ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم ہوئے۔ جولائی 2026 میں بھارتی فورسز کے بڑے پیمانے پر کریک ڈان کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا اور متعدد مکانات مسمار کیے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں بھارتی فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں سرچ اور محاصرے کی کارروائیاں تیز کر دیں۔ کلگام، پلوامہ، شوپیاں، اسلام آباد (اننت ناگ)، سرینگر، گاندربل، بارہمولہ، بڈگام، کپواڑہ، بانڈی پورہ، اونتی پورہ اور ہندواڑہ سمیت کئی علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ شہریوں کو سخت تلاشی، نگرانی اور نقل و حرکت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی حکام کے مطابق سرچ آپریشنز کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا اور مزید کارروائیاں جاری رہیں گی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی میں ضلع اسلام آباد (اننت ناگ) میں بھارتی پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں کریک ڈان مزید تیز کیا گیا۔ اس دوران بھارتی انتظامیہ نے بیج بہاڑہ میں عادل ٹھوکر اور حسن پورہ میں ہارون گنائی کے مکانات بھی مسمار کردیے۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک مقبوضہ کشمیر میں مجموعی طور پر 96 ہزار 499 افراد شہید ہوئے، جن میں 7 ہزار 419 مبینہ حراستی یا جعلی مقابلوں میں شہادتیں شامل ہیں۔ اس دوران ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ، ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم اور 11 ہزار 278 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنیں۔ رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2019 سے جولائی 2026 تک ایک ہزار 66 افراد شہید ہوئے، جن میں 295 مبینہ حراستی شہادتیں یا جعلی مقابلے شامل ہیں۔ اس عرصے میں 2 ہزار 702 افراد تشدد یا شدید زخمی ہوئے، 37 ہزار 210 سے زائد گرفتاریاں ہوئیں، جبکہ ایک ہزار 211 سے زائد مکانات، دکانوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس دوران 84 خواتین بیوہ، 234 بچے یتیم اور 148 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرلاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی اگلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم