پشاور کے سی ٹی ڈی تھانے میں دھماکے سے ایک اہلکار شہید
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور: یونیورسٹی روڈ پر واقع کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے تھانے میں زوردار دھماکے کے نتیجے میں ایک اہلکار شہید اور دو دیگر زخمی ہوگئے۔ واقعہ کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری طور پر جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا۔
دھماکا سی ٹی ڈی تھانے کے اسلحہ خانے میں ہوا، جہاں پرانے دھماکا خیز مواد کے اچانک پھٹنے سے زوردار دھماکا ہوا۔ سی سی پی او پشاور کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ دھماکا کسی بیرونی حملے کا نتیجہ نہیں بلکہ اندر موجود پرانے بارودی مواد کے پھٹنے سے ہوا۔ دھماکے کے بعد آگ نے اسلحہ خانے میں موجود دیگر گولہ بارود کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے باعث مزید دھماکے ہوئے اور عمارت کا ایک حصہ منہدم ہوگیا۔
پولیس حکام کے مطابق تھانے میں موجود تمام ملزمان کو فوری طور پر سی ٹی ڈی ہیڈکوارٹرز منتقل کردیا گیا ہے، جبکہ تھانے اور اردگرد کے علاقے کو مکمل طور پر سیل کرکے کلیئرنس آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ بم ڈسپوزل یونٹ، فائر بریگیڈ اور ریسکیو کی ٹیمیں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ ابتدائی طور پر واقعہ کو دہشت گردی کا نتیجہ قرار نہیں دیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سی ٹی ڈی
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔