بھارت کے سابق ہیڈ کوچ گریگ چیپل نے ایک نیا انکشاف کرتے ہوئے بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) پر سخت تنقید کی ہے۔

گریگ چیپل نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق بی سی سی آئی اور آئی سی سی چیف جگموہن ڈالمیا نے 2005 میں سورو گنگولی کی معطلی کی مدت کم کرنے کی پیشکش کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:

یہ انکشاف اُس وقت سامنے آیا ہے جب سابق انگلش کرکٹر اور میچ ریفری کرس براڈ نے بی سی سی آئی پر اپنے اثر و رسوخ کے غلط استعمال اور معاملات کو سیاسی رنگ دینے کا الزام لگایا تھا۔

A few days after Chris Broad revealed he was asked to be lenient towards Sourav Ganguly's over-rate offences, former India coach Greg Chappell has backed up his claims.

READ: https://t.co/NAXR0i1mKC pic.twitter.com/7ImSsuyLKA

— Wisden (@WisdenCricket) October 29, 2025

دی ٹیلی گراف کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کرس براڈ نے بتایا کہ ایک میچ کے دوران انہیں فون پر ہدایت دی گئی کہ سورو گنگولی کی قیادت میں کھیلنے والی بھارتی ٹیم پر سست اوور ریٹ کے باعث جرمانہ عائد نہ کیا جائے۔

اگرچہ انہوں نے کسی مخصوص میچ کا ذکر نہیں کیا، مگر اشارے 2005 کی ایک ممکنہ ون ڈے سیریز کی طرف تھے۔

مزید پڑھیں:

گریگ چیپل نے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے مزید انکشاف کیا کہ ڈالمیا نے ان سے کہا کہ وہ گنگولی کی معطلی کم کرا سکتے ہیں تاکہ وہ سری لنکا کے دورے پر جا سکے،

سڈنی مارننگ ہیرالڈ سے گفتگو میں چیپل نے بتایا کہ انہوں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ نظام کو خراب نہیں کرنا چاہتے۔

مزید پڑھیں:

’گنگولی کو اپنی سزا پوری کرنا ہوگی، ڈالمیا کو بھی یہ منظور تھا کہ وہ کچھ میچز سے محروم رہیں۔‘

چیپل کا بطور بھارتی ہیڈ کوچ پہلا دورہ 2005 میں انڈین آئل کپ کے نام سے سری لنکا میں ہونے والی سہ ملکی سیریز تھی۔

مزید پڑھیں:

اسی دوران گنگولی کو سست اوور ریٹ کی وجہ سے ابتدائی 2 میچز کے لیے معطل کیا گیا تھا۔

بعد ازاں اس سال گنگولی کو ٹیم سے بھی باہر کر دیا گیا۔ تاہم 07-2006 میں وہ دوبارہ ٹیم میں واپس آئے, لیکن اس وقت گریگ چیپل نے اپنا معاہدہ بی سی سی آئی کے ساتھ مزید بڑھانے سے انکار کر دیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بی سی سی آئی دی ٹیلی گراف سڈنی مارننگ ہیرالڈ سورَو گنگولی کرس براڈ کرکٹ گریگ چیپل میچ ریفری ہیڈ کوچ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: دی ٹیلی گراف سڈنی مارننگ ہیرالڈ سور و گنگولی کرس براڈ کرکٹ میچ ریفری ہیڈ کوچ

پڑھیں:

جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا

بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم بلوچ عسکری تنظیموں اور بعض سماجی و سیاسی حلقوں کے درمیان روابط موجود ہیں، جبکہ خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو مسلح سرگرمیوں میں شامل کرنا بلوچ روایات اور قبائلی اقدار کے منافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی سرپرستی میں زہریلا پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمال رئیسانی نے کہا کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب کا نام مختلف واقعات میں سامنے آتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ معاشرے کی روایات میں خواتین کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے سابق بلوچ رہنما اکبر بگٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچ خواتین کو جنگ کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔

نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ ہم جنگ میں خواتین کو استعمال نہیں کریں گے، ہیروف 2 میں شامل خودکش حملہ آور اور کمانڈر شہناز تک تمام کے تانے بانے بی وائی سی سے ملتے ہیں، جمال رئیسانی
مکمل ویڈیو فیس بک پیج پرhttps://t.co/GB5kSKBy0R#Balochistan #Quetta pic.twitter.com/GLHj40tk43

— Daily Intekhab (@Intekhabhd) June 2, 2026

رکن قومی اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ حالیہ برسوں میں بعض کم عمر لڑکیوں اور خواتین کو عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا، جو بلوچ روایات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض خودکش حملوں اور عسکری کارروائیوں میں خواتین کی شمولیت کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

جمال رئیسانی کا کہنا تھا کہ دشمن صرف ہتھیاروں کے ذریعے نہیں بلکہ سوشل میڈیا، ہیش ٹیگز، ویڈیوز اور پروپیگنڈا مہمات کے ذریعے بھی نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک منظم نیٹ ورک مخصوص بیانیے کو فروغ دے کر نوجوان نسل کی سوچ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بعض افراد اور گروہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے کالعدم تنظیموں کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سیکیورٹی اداروں اور ریاستی اداروں کے پاس اس حوالے سے مختلف رپورٹس اور شواہد موجود ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

جمال رئیسانی نے کہا کہ حکومت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مؤثر قانون سازی اور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو تشدد کے راستے سے دور رکھنے کے لیے ریاستی سطح پر مختلف پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی مکالمے، جمہوری عمل اور آئینی طریقہ کار میں مضمر ہے، جبکہ تشدد اور مسلح کارروائیاں نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران جمال رئیسانی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض حالیہ واقعات اور عسکری کارروائیوں میں ملوث افراد کے روابط مخصوص حلقوں سے ملتے ہیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • اٹلی میں پاکستانی اور افغان تارکین وطن کو وین میں آگ لگا کر قتل کرنے کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار
  • گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع