مقبوضہ کشمیر، انتظامیہ نے مزید دو کشمیری سرکاری ملازم برطرف کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
ذرائع کے مطابق محکمہ تعلیم میں بطور استاد تعینات غلام حسین اور ماجد اقبال ڈار کو بھارتی آئین کی دفعہ (c) (2) 311 کے تحت برطرف کیا گیا جو بغیر کسی تحقیقات کے ملازمین کی برطرفی کی اجازت دیتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نئی دلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر کے ماتحت انتظامیہ نے مزید 2 کشمیری مسلمان سرکاری ملازمین کو برطرف کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق محکمہ تعلیم میں بطور استاد تعینات غلام حسین اور ماجد اقبال ڈار کو بھارتی آئین کی دفعہ (c) (2) 311 کے تحت برطرف کیا گیا جو بغیر کسی تحقیقات کے ملازمین کی برطرفی کی اجازت دیتی ہے۔ انتظامیہ نے ملازمین کی برطرفی کا جواز فراہم کرنے کے لیے ان پر بھارتی خودمختاری اور سالمیت کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ یاد رہے کہ مودی حکومت نے اگست 2019ء میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد بیسیوں کشمیری سرکاری ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کیا ہے جس کا مقصد ان کی جگہ ہندو ملازمین کو تعینات کر کے علاقے میں ہندوتوا ایجنڈے کو آگے بڑھانا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔