مقبوضہ کشمیر، بی جے پی کے رکن اسمبلی رتلے پن بجلی منصوبے میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں، تعمیراتی کمپنی
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
میگھا انجینئرنگ اینڈ انفراسٹرکچر لمیٹڈ کے پروموٹر پامریڈی پچی ریڈی اور پی وی کرشنا ریڈی نے 966کروڑ روپے کے الیکٹورل بانڈز خریدے تھے جن میں سے زیادہ تر بی جے پی نے کیش کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں اربوں روپے مالیت کا پن بجلی منصوبہ تعمیر کرنے والی نجی کمپنی کا کہنا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقامی رکن اسمبلی منصوبے کی تعمیر میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق میگھا انجینئرنگ اینڈ انفراسٹرکچر لمیٹڈ (MEIL) نے جو حیدرآباد کی ایک تعمیراتی کمپنی ہے اور الیکٹورل بانڈز کی دوسری سب سے بڑی خریدار تھی، کہا کہ رتلے پن بجلی منصوبے کو بند کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔850میگاواٹ کا رتلے پن بجلی منصوبہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی حکومت اور بھارت کی نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن (NHPC) کا مشترکہ منصوبہ ہے جو کشتواڑ کے علاقے دراب شالہ میں تعمیر ہو رہا ہے۔ بی جے پی کی سیاسی مداخلت کی وجہ سے کافی عرصے سے منصوبے میں نقصان ہو رہا ہے اور اب نجی کمپنی کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے مقامی لیڈر اور کارکن اصولوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور اسے ناتجربہ کار کارکنوں کو بھرتی پر مجبور کر رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق یہ منصوبہ گزشتہ سال سے ورکرز کے مسائل کا شکار ہے۔ رواں ہفتے کے شروع میں ایم ای آئی ایل کے ایک سینئر عہدیدار کی گاڑی پر دراب شالہ میں پتھرائو کیا گیا تھا جس سے بحران مزید بڑھ گیا ہے۔
کمپنی کے ایک عہدیدار نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ مقامی رکن اسمبلی سمیت چند لوگ جو کمپنی میں شامل نہیں ہیں، پراجیکٹ کو بند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ رتلے پاور پروجیکٹ کے جوائنٹ چیف آپریٹنگ آفیسر ہرپال سنگھ نے کہا کہ پراجیکٹ میں مزدوروں کی ہڑتال کو منظم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ کسی بھی قسم کی ہڑتال یا کام روکنے کی سختی سے ممانعت ہے اور اسے معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہڑتال میں شرکت سنگین نتائج کا باعث بنے گی جس میں ملازمت کی برطرفی، قانونی کارروائی اور غیر معینہ مدت کے لیے رتلے ڈیم کی تعمیر کو معطل کرنا شامل ہے۔ کمپنی کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ تعمیراتی کام کو روکے جانے کا امکان ہے جس سے منصوبے کی مئی 2026ء کی تکمیل کی تاریخ متاثر ہو سکتی ہے۔ میگھا انجینئرنگ اینڈ انفراسٹرکچر لمیٹڈ کے پروموٹر پامریڈی پچی ریڈی اور پی وی کرشنا ریڈی نے 966کروڑ روپے کے الیکٹورل بانڈز خریدے تھے جن میں سے زیادہ تر بی جے پی نے کیش کیے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بی جے پی پن بجلی رہے ہیں کہا کہ
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔