میگھا انجینئرنگ اینڈ انفراسٹرکچر لمیٹڈ کے پروموٹر پامریڈی پچی ریڈی اور پی وی کرشنا ریڈی نے 966کروڑ روپے کے الیکٹورل بانڈز خریدے تھے جن میں سے زیادہ تر بی جے پی نے کیش کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں اربوں روپے مالیت کا پن بجلی منصوبہ تعمیر کرنے والی نجی کمپنی کا کہنا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقامی رکن اسمبلی منصوبے کی تعمیر میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق میگھا انجینئرنگ اینڈ انفراسٹرکچر لمیٹڈ (MEIL) نے جو حیدرآباد کی ایک تعمیراتی کمپنی ہے اور الیکٹورل بانڈز کی دوسری سب سے بڑی خریدار تھی، کہا کہ رتلے پن بجلی منصوبے کو بند کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔850میگاواٹ کا رتلے پن بجلی منصوبہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی حکومت اور بھارت کی نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن (NHPC) کا مشترکہ منصوبہ ہے جو کشتواڑ کے علاقے دراب شالہ میں تعمیر ہو رہا ہے۔ بی جے پی کی سیاسی مداخلت کی وجہ سے کافی عرصے سے منصوبے میں نقصان ہو رہا ہے اور اب نجی کمپنی کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے مقامی لیڈر اور کارکن اصولوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور اسے ناتجربہ کار کارکنوں کو بھرتی پر مجبور کر رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق یہ منصوبہ گزشتہ سال سے ورکرز کے مسائل کا شکار ہے۔ رواں ہفتے کے شروع میں ایم ای آئی ایل کے ایک سینئر عہدیدار کی گاڑی پر دراب شالہ میں پتھرائو کیا گیا تھا جس سے بحران مزید بڑھ گیا ہے۔

کمپنی کے ایک عہدیدار نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ مقامی رکن اسمبلی سمیت چند لوگ جو کمپنی میں شامل نہیں ہیں، پراجیکٹ کو بند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ رتلے پاور پروجیکٹ کے جوائنٹ چیف آپریٹنگ آفیسر ہرپال سنگھ نے کہا کہ پراجیکٹ میں مزدوروں کی ہڑتال کو منظم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ کسی بھی قسم کی ہڑتال یا کام روکنے کی سختی سے ممانعت ہے اور اسے معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہڑتال میں شرکت سنگین نتائج کا باعث بنے گی جس میں ملازمت کی برطرفی، قانونی کارروائی اور غیر معینہ مدت کے لیے رتلے ڈیم کی تعمیر کو معطل کرنا شامل ہے۔ کمپنی کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ تعمیراتی کام کو روکے جانے کا امکان ہے جس سے منصوبے کی مئی 2026ء کی تکمیل کی تاریخ متاثر ہو سکتی ہے۔ میگھا انجینئرنگ اینڈ انفراسٹرکچر لمیٹڈ کے پروموٹر پامریڈی پچی ریڈی اور پی وی کرشنا ریڈی نے 966کروڑ روپے کے الیکٹورل بانڈز خریدے تھے جن میں سے زیادہ تر بی جے پی نے کیش کیے تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: بی جے پی پن بجلی رہے ہیں کہا کہ

پڑھیں:

فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان

پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘  کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔

فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔

گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔

رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ