حکومت آزاد کشمیر نے عوام کے لیے خوشخبری سناتے ہوئے بجلی کے ٹیرف پر عائد تمام سخت شرائط ختم کر دی ہیں۔ اس فیصلے سے صارفین کو مالی ریلیف حاصل ہوگا اور تعلیمی و کمرشل صارفین دونوں کے لیے نئی آسان شرائط نافذ کر دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:قوت گویائی اور سماعت سے محروم آزاد کشمیر کا باہمت اخبار فروش

حکومت آزاد کشمیر نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے مطابق بجلی کے ٹیرف پر تمام سخت شرائط ختم کر دی ہیں۔

وزیر خزانہ کے مطابق تمام اسکولوں اور کالجوں کے لیے 1 سے 1000 یونٹ تک بجلی کا ٹیرف 15 روپے فی یونٹ مقرر کیا گیا ہے۔ جبکہ 1000 یونٹ سے زائد استعمال پر ٹیرف 25 روپے فی یونٹ ہوگا۔

5 تا 160 کلو واٹ کے کمرشل صارفین کے لیے 1 سے 1500 یونٹ تک بجلی کا ٹیرف 25 روپے فی یونٹ مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 1501 یونٹ سے زائد استعمال کرنے والے صارفین کے لیے ٹیرف 35 روپے فی یونٹ مقرر کیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن جاری

اس حوالے سے حکومت آزاد کشمیر کے محکمہ توانائی و آبی وسائل نے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے، جس میں نئے ٹیرف کی تفصیلات شامل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آزاد کشمیر الیکٹرک بل حکومت آزاد کشمی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: الیکٹرک بل حکومت آزاد کشمی روپے فی یونٹ حکومت آزاد کے لیے

پڑھیں:

کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں

لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نہایت قریب انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں خوبصورت ہمالیائی پہاڑی سلسلے کے درمیان واقع ون دجی گاؤں کی 19 سالہ کلثومہ کے لیے جدید زمانہ صرف ایک محاورہ ہی ہے، کیونکہ ان کی زندگی قدیم انسانوں جیسی ہی ہے۔ون دجی گاؤں کی پانچ نسلوں نے آج تک بجلی کی روشنی نہیں دیکھی ہے اور نئی نسل بھی باورچی خانے میں چولہے کی آگ اور روشنی کے لیے مشعل کے دھویں میں پروان چڑھ رہی ہے۔اس گاؤں کو صدیوں سے بجلی کا انتظار ہے کیونکہ اسے ابھی تک بجلی کے گرڈ کے ساتھ نہیں جوڑا گیا ہے۔
ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں
ون دجی کی طرف جانے والے صرف راستے ہی دشوار نہیں ہیں، یہاں کی زندگی بھی مشکلات کے بیچ گھِری ہوئی ہے۔ دن بھر مشقت کے بعد جب شام ہوتی ہے، تو یہاں کے لوگ ایک نئی جدوجہد شروع کرتے ہیں۔کلثومہ کہتی ہیں کہ ’یہاں خواتین زیادہ پریشان ہیں، کیونکہ دن میں چولہے کا دھواں ہوتا ہے اور رات میں پڑھائی کے وقت مشعل کا دھواں انھیں بیمار کر دیتا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ گاؤں سے باہر جاتے ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ انسانی تہذیب کا حصہ نہیں ہیں۔جب ہم کپواڑہ مارکیٹ میں جاتے ہیں تو لوگوں کو سمارٹ فون پر مصروف پا کر ہمیں کمتری کا احساس ہوتا ہے، کسی رشتہ دار کے یہاں جاتے ہیں تو وہاں ہیٹر، بوائلر، گیزر وغیرہ دیکھ کر ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے لیے وقت اُدھر ہی رُک گیا جب انسان آگ سے ہی کھانا پکاتا تھا اور آگ سے ہی رات میں روشنی کرتا تھا۔
’ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں۔‘

متعلقہ مضامین

  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان