اووربلنگ کی مد میں بجلی صارفین سے 8 ارب سے زاید رقم بٹورنے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251212-08-30
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) شاہدہ اختر علی کی زیر صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس جس میں پاور ڈویژن سے متعلق سال 2022-23 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ اووربلنگ کی مد میں 8 ارب سے زاید ریونیو جمع کرانے کا انکشاف ہوا، آڈٹ حکام نے کہا کہ استعمال شدہ یونٹس سے زیادہ اووربلنگ کرکے صارفین کو 8 ارب سے زاید کا نقصان ہوا، ایک ہزار سے زاید فیڈرز پر ڈسٹری بیوٹرز کمپنیز نے اووربلنگ کی۔ اجلاس کے دوران پی اے سی کے ریکوزیشن اجلاس کے موقع پر اتفاق رائے سے طے پایا کہ جب تک چیئرمین پی اے سی جنید اکبر واپس نہیں آتے کمیٹی کی سربراہی تمام پارٹیاں کریں گی، ہر اجلاس میں کمیٹی سربراہ تبدیل ہو گا۔ کمیٹی کی سربراہی روٹیشن پر تبدیل کرنے کی تجویز ایم کیو ایم کے امین الحق نے دی۔ پاور ڈویشن کی آڈٹ رپورٹ 24-2023 زیر کا جائزہ لیتے ہوئے آڈٹ حکام نے پاور ڈویژن میں مجموعی طور پر 8727 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ آڈٹ رپورٹ میں سے 9 ارب 34 کروڑ روپے سے زاید کی ریکوری ہو چکی ہے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق 4 ڈسکوز کے صارفین کو 9 ارب 14 کروڑ روپے کا غیر مجاز ری فنڈ دینے کا انکشاف کیا گیا۔ آڈٹ حکام کا کہنا تھا کہ دو لاکھ 93 ہزار 572 صارفین کو سلیب یا ٹیرف ریلیف دیا گیا۔ صارفین کو 2018 سے 2023 تک یہ ریلیف فراہم کیا گیا۔ سیکرٹری پاور ڈویژن نے کہا کہ آڈٹ کے وقت بیشتر ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا تھا۔ تمام ڈسکوز کو اب بتا دیا ہے کہ ہر معاملے میں ریکارڈ بروقت فراہم کیا جائے۔ رکن پی اے سی سید حسین طارق نے کہا کہ غلط بلنگ کرنے والے افسران کے خلاف کیا کارروائی کی گئی، ریکوری کتنی ہوئی۔ سی ای او لیسکو نے کہا کہ ہم نے معاملہ پر انٹرنل آڈٹ رپورٹ جمع کروا دی ہے۔ آڈیٹر جنرل نے کہا کہ ڈسکوز نے یہ ریلیف رننگ صارفین کو دیا، صرف ڈس کنیکٹڈ صارفین کو دینے کی اجازت تھی۔ میٹر ریڈر ریڈنگ کے لیے جاتے ہی نہیں۔ سیکرٹری پاور ڈویژن نے کہا کہ اب میٹر ریڈنگ کی تصاویر تمام ڈسکوز کے بلوں پر آویزاں کی جاتی ہیں۔ اب صارفین خود بھی موبائل ایپ کے ذریعے اپنی میٹر ریڈنگ اپ لوڈ کر سکتے ہیں۔ سید حسین طارق نے کہا کہ مستقبل کی بات کو چھوڑیں اس کیس میں 9 ارب روپے کا کیا کرنا ہے؟ سیکرٹری پاور ڈویژن نے کہا کہ پی اے سی ریکارڈ کی تصدیق کے لیے وقت دے۔ آڈٹ حکام نے کہا کہ سب سے زیادہ ری فنڈ لیسکو نے دیا۔ لیسکو نے صارفین کو ساڑھے سات ارب روپے کا ری فنڈ دیا۔ سی ای او میپکو نے کہا کہ معاملہ میں ملوث 43 میپکو اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا ریکارڈ آج میں نہیں لایا جس پر پی اے سی نے برہمی کا اظہار کیا اور آڈٹ اعتراض موخر کر دیا۔ پی اے سی نے سیکرٹری پاور ڈویڑن کو ریکارڈ کی تصدیق جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ سی او پیسکو نے کہا کہ پیسکو میں میٹر ریڈرز کی کمی ہے۔سوات سمیت کئی شہروں کے دشوار گزار علاقوں میں دو ماہ بعد ریڈنگ لی جاتی ہے۔ سیکرٹری پاور ڈویژن نے کہا کہ پیسکو سمیت دیگر ڈسکوز میں بھرتیوں کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ کئی ڈسکوز میں میٹر ریڈنگ کو آئوٹ سورس کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیسکو میں 24 ہزار اسامیاں ہیں صرف دس ہزار ملازمین کام کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ پی ا ڈٹ حکام نے ا ڈٹ رپورٹ صارفین کو پی اے سی سے زاید
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔