پاکستان کشمیریوں کی منزل مقصود اور محفوظ ترین پناہ گاہ ہے، سردار عتیق
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
ووکرز کنونشن سے خطاب کے دوران ان کا کہا تھا کہ ان کی جماعت پاکستان کے ساتھ غیر مشروط وابستگی پر یقین رکھتی ہے، مسلم کانفرنس کو کمزور کرنے کا مطلب قائد اعظم کی کشمیر پالیسی کو کمزور کرنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے کہا ہے کہ پاکستان کشمیریوں کی منزل مقصود اور محفوظ ترین پناہ گاہ ہے جبکہ ”کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ“ جنوبی ایشیا کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔ ذرائٰع کے مطابق سردار عتیق احمد خان نے آزاد جموں و کشمیر کے ضلع میرپور کی تحصیل ڈڈیال میں مسلم کانفرنس کے ووکرز کنونشن سے خطاب کے دوران کہا کہ ان کی جماعت پاکستان کے ساتھ غیر مشروط وابستگی پر یقین رکھتی ہے، مسلم کانفرنس کو کمزور کرنے کا مطلب قائد اعظم کی کشمیر پالیسی کو کمزور کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم کانفرنس وہ جماعت ہے جو ریاست جموں و کشمیر کے تشخص اور وحدت کی پہرے دار ہے۔ سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج کی مخالفت مملکت خداداد پاکستان کی مخالفت کے مترادف ہے، دشمن ہماری اندرونی تقسیم اور ہمارے سیاسی عدم استحکام سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ بزدل دشمن بھارت نے ہمارے ساتھ فوجی پنجہ آزمائی میں ہزیمت و ناکامی کے بعد ہمیں اندرونی طور پر عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوششوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ دشمن ہماری صفوں میں انتشار اور بدامنی پیدا کر کے پاکستان کی شہ رگ پر ہاتھ ڈالنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والی نسلوں کا مستقبل کشمیر بنے گا پاکستان سے وابستہ ہے، پاکستان اور ریاست جموں و کشمیر کے درمیان موجود لازوال رشتوں پر پہرے داری کے بغیر تحریک آزادی کا سفر ہرگز مکمل نہیں ہو سکتا۔ یوتھ کنونشن میں مسلم کانفرنس کی جنرل سیکرٹری مہر النسا، چوہدری شوکت علی صدر ضلع میرپور، چیئرمین یوتھ ونگ سردار عثمان علی خان، مرزا محمد شفیق جرال ایڈووکیٹ، راجہ ظفر معروف، سابق ممبر کشمیر کونسل سید غلام رضا نقوی ایڈووکیٹ، چوہدری خضر حیات، راجہ شفیق خان، راجہ وسیم خالد، ساجد قریشی ایڈووکیٹ اور دیگر رہنما شریک تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سردار عتیق احمد خان نے کہا مسلم کانفرنس نے کہا کہ کو کمزور
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔