نعمان اعجاز پاکستان کے سب سے بڑے ستاروں میں سے ایک اور انتہائی ورسٹائل اداکار ہیں۔

انہوں نے اپنے کیریئر میں کئی شاندار پروجیکٹس کیے ہیں اور ہر کردار کو بھرپور طریقے سے نبھانے کی مہارت رکھتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں انہوں نے بسمل، پرورش اور شرپسند جیسے کامیاب پروجیکٹس کے ذریعے اپنی اداکاری کا لوہا منوایا۔

ان کا کردار فراست بھی اتنی حقیقت پسندی کے ساتھ نبھایا گیا ہے کہ کوئی اور اس میں اتنی جان نہیں ڈال سکتا تھا۔

نعمان اعجاز نے ایک بار یہ انکشاف کیا تھا کہ وہ ہر صبح کام پر جانے سے پہلے وضو کرتے ہیں، جس پر انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

لوگوں نے ان کے اس بیان پر مختلف تبصرے کیے، میمز بنائیں کیونکہ وہ شوبز کی دنیا سے وابستہ ہیں۔

اس حوالے سے انہوں نے حال ہی میں دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ وہ پرانے دور کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں جن کے عقائد آج کے دور میں سمجھنا انتہائی مشکل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے بزرگوں نے ہمیں ایک بات سکھائی تھی گھر سے کام کے لیے وضو کرکے نکلا کرو اس سے رزق کے مزید دروازے کھلتے ہیں لیکن لوگوں نے اس پر میمز بنائیں کہ ’نعمان اعجاز وضو کرکے نامحرم عورتوں کے ساتھ کام کرتے ہیں‘۔

نعمان اعجاز نے مزید کہا کہ اسی وجہ سے انہوں نے حالیہ برسوں میں انٹرویو دینا کم کر دیا ہے تاکہ ان کی باتوں کو غلط انداز میں نہ لیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: انہوں نے

پڑھیں:

بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب

کراچی:

ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔

درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔

درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔
 

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف