پشاور جلسہ: کارکن نہ لانے پر پی ٹی آئی کے 25 ضلعی عہدیداروں کو شوکاز نوٹس
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
تحریک انصاف نے پشاور میں منعقدہ جلسے میں مطلوبہ تعداد میں کارکن نہ پہنچانے پر ضلعی تنظیم کے 25 اراکین کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
یہ جلسہ 7 دسمبر کو حیات آباد اسپورٹس کمپلیکس میں منعقد ہوا تھا، جس سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بھی خطاب کیا تھا۔
یہ پڑھیں: پی ٹی آئی کا پشاور میں جلسہ: بہت جلد ڈی چوک جانے کی کال دوں گا، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا اعلان
میڈیا رپورٹس کے مطابق پارٹی قیادت نے جلسے کے انتظامات کا جائزہ لینے کے بعد یہ کارروائی کی، کیونکہ ضلعی تنظیم مقررہ تعداد میں کارکنوں کو جلسہ گاہ لانے میں ناکام رہی۔
پارٹی کی جانب سے جاری کیے گئے شوکاز نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ضلعی تنظیم کے عہدیداروں نے پارٹی احکامات پر عمل درآمد نہیں کیا اور جلسے کے لیے کارکنوں کی مؤثر متحرک سازی میں ناکامی کا مظاہرہ کیا۔
مزید پڑھیں: کے پی میں گورنر راج یا عمران خان کی کسی اور جیل منتقلی سے ملک انارکی کی طرف جائے گا، اسد قیصر
نوٹس میں تمام متعلقہ عہدیداروں کو تین دن کے اندر تحریری وضاحت جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ تسلی بخش جواب موصول نہ ہونے کی صورت میں تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
دوسری جانب پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ شوکاز نوٹسز کے اجرا کے بعد کئی ضلعی عہدیداروں نے اپنے استعفے بھی پارٹی قیادت کو پیش کر دیے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
استعفے پشاور جلسہ پی ٹی آئی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی شوکاز نوٹس وزیر اعلی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: استعفے پشاور جلسہ پی ٹی ا ئی خیبرپختونخوا سہیل ا فریدی شوکاز نوٹس وزیر اعلی شوکاز نوٹس
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔