پشاور(ویب ڈیسک)پروٹوکول کی خلاف ورزی پر ڈاکٹر سے وضاحت طلب کرنے پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے ایل آر ایچ انتظامیہ سے وضاحت طلب کر لی۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ‏یہ معاملہ 20 روز پہلے کا ہے اور اسپتال کے ڈائریکٹر سے کسی قسم کی کارروائی نا کرنے کا کہا تھا۔

وزیراعلی نے سوشل میڈیا پر وضاحت دی کہ ڈاکٹر سے غلط وضاحت طلب کرنے پر میں نے اسپتال انتظامیہ سے وضاحت طلب کی ہے۔

واضح رہے کہ لیڈی ریڈنگ اسپتال انتظامیہ نے‏ وزیر اعلیٰ کے دورے کے موقع پر پروٹوکول کی خلاف ورزی پر ڈاکٹر سے وضاحت طلب کی تھی۔

انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ متعلقہ ڈاکٹر نے نہ اپنا تعارف کروایا اور نہ ہی وزیر اعلیٰ کو ضروری بریفنگ فراہم کی، جو کہ اسپتال پروٹوکول کے بنیادی تقاضوں کے منافی ہے۔

انتظامیہ کے مطابق یہ عمل ’’پروٹوکول اور کوآرڈینیشن کی سنگین خلاف ورزی‘‘ ہے، جس پر ڈاکٹر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آئندہ تین روز کے اندر اپنی پوزیشن واضح کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار  تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا  تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق