پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کاعبدالصمد اچکزئی کی 52ویں برسی کی تقریب کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)حیدرآباد پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ڈسٹرکٹ حیدرآباد کے زیرِ اہتمام خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کی 52 ویں برسی کے موقع پر حیدرآباد پریس کلب میں ایک پروقار تعزیتی سیمینار کا انعقاد سندھ زون صوبائی صدر سلیم خان ترین کی صدارت میں منعقد ہوا۔ سٹیج کے فرائض ضلعی جنرل سیکرٹری ملک عبدالقیوم خان کاکڑ نے ادا کی۔ تقریب میں پشتونخوامیپ رہنماؤں کے علاوہ سندھ یونائٹیڈ پارٹی، جمعیت علماء اسلام شیرانی، مجلس وحدت المسلمین اور حیدرآباد بار ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے شرکت کی اور خان شہید کی سیاسی، سماجی اور جمہوری خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔سیمینار سے پشتونخوامیپ کے صوبائی صدر سلیم خان ترین، ضلعی صدر اکبر یوسفزئی، سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اصغر قریشی صاحب۔ مجلس وحدت المسلمین کے ضلعی نائب صدر مولانا نور حسن ۔ جمعیت علماء اسلام شیرانی ضلعی جنرل سیکرٹری مولانا عبدالرحیم صدیقی ۔ وکلا بار کے ایڈوکیٹ محمد حسین خان۔ صوبائی ڈپٹی سیکرٹری آزاد خان خلجی۔ فضل آشنا نے خطاب کیے۔ مقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی نے قومی سیاست میں اپنی عظیم جدوجہد، اصولی مؤقف اور بے مثال قربانیوں سے ایک روشن اور تاریخ ساز باب رقم کیا۔ ان کی جدوجہد محکوم اقوام کے جمہوری حقوق، آئینی بالادستی اور انسانی آزادیوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خان شہید کے افکار اور جدوجہد کو آگے بڑھانا پشتونخوا ملی عوامی پارٹی سمیت تمام جمہوری قوتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خان شہید
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔