Juraat:
2026-07-24@10:40:56 GMT

انڈونیشین صدرکادورہ اور توقعات

اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT

انڈونیشین صدرکادورہ اور توقعات

حمیداللہ بھٹی

پاک انڈونیشیا تعلقات میں حالیہ پیش رفت اِس بناپر بھی اہمیت کی حامل ہے کہ جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کا اقتصادی منظر نامہ
بدل رہا ہے اورنئے معاشی اور دفاعی اتحاد تشکیل پارہے ہیں۔ یہ ایسی جغرافیائی تبدیلیاں ہیں جنھیں سمجھ لیاجائے تو مستقبل کے لیے بہتر منصوبہ بندی کی جاسکتی ہے پاکستان اور انڈونیشیا دونوں ہی مسلم دنیا میں ممتازاور منفرد مقام رکھتے ہیں اگر پاکستان جوہری طاقت ہونے کی بناپر دفاعی حوالے سے اہم ہے تو انڈونیشیا نے بھی کمال مہارت سے گزرے دوعشروں کے دوران معاشی استحکام،صنعتی ترقی، سیاحت، روزگار اور جمہوری حوالے سے قابلِ رشک کامیابیاں حاصل کی ہیں جن سے ابھی پاکستان فاصلے پر ہے جوہری طاقت ہونے کے باوجود پاکستان سیاسی عدمِ استحکام کا شکار ہے معیشت ناتواں،مہنگی توانائی،بڑھتی مہنگائی اور خارجی انحصار جیسے مسائل کا سامنا ہے اِن حالات میںدونوں ممالک کا ایک دوسرے کے قریب آنااور تعاون و اشتراک کے معاہدے کرنا بروقت ہے مقامِ اطمنان یہ ہے کہ دونوں ممالک کی قیادت کو نہ صرف نئے حالات و مسائل کا ادراک ہے بلکہ اِن مسائل کو حل کرنے کی تگ ودومیں ہے اور سنجیدگی سے دونوں کی مستقبل کی منصوبہ بندی پر توجہ ہے اگر عملی طورپر بھی ایسا ہوجاتا ہے تو اُن کے عالمی کرداروساکھ میں بہتری آسکتی ہے توقع ہے کہ موجودہ حالات میں انڈونیشین صدر ابووسوبیانتوکے دورہ پاکستان سے تعلقات کونئی جہت ملے گی کیونکہ معاہدے اور مفاہمتی یادداشتوں کے حوالے سے دونوں نے کشادہ دلی کا دکھائی ہے۔
پاکستان اور انڈونیشیا میں کئی اقدار مشترک ہیں دونوں ہی نہ صرف دنیا کی بڑی مسلم آبادی والے ممالک ہیں بلکہ ماضی میں نوآبادیاتی
قوتوں کے خلاف جدوجہد سے آزاد ہوئے اور ترقی پذیر ممالک کے حقوق کے لیے عالمی سطح پر آوازبھی اُٹھاتے ہیں دونوں میں اشتراکِ کار اِس لیے بھی ضروری ہے کہ یہ مسلم ممالک کسی کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتے اور محکوم اقوام کوحقِ خوداِرادیت دینے کے علمبردار ہیں
کشمیر، فلسطین،میانمار میں مسلم آبادی پر روارکھے جانے والے مظالم کے سخت ناقد ہیں۔ اِ ن کا ایک آواز ہونا مسلم ممالک کے ساتھ ترقی پذیر ممالک اور محکوم مسلم آبادی کے لیے یقینی طورپر حوصلہ افزاہوگا۔
پاک انڈونیشیاموجودہ قیادت دونوں ممالک کو قریب ترلانے کے لیے کوشاں ہے انڈونیشین صدرکے حالیہ دورے کے دوران اقتصادی و تجارتی تعلقات،دفاع،سلامتی ،صحت ،تعلیم ،سائنس وٹیکنالوجی،زراعت اور ماحولیاتی تعاون کو مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ اطمینان بخش
ہے اگر تجارتی حوالے سے دیکھا جائے تو تجارتی توازن واضح طورپر انڈونیشیا کے حق میں ہے جس کی اہم وجہ پاکستان کا خوردنی تیل کی
ضروریات کے لیے انڈونیشیا کوترجیح دینا ہے ۔اسی وجہ سے پاکستان صرف انڈونیشیا سے اپنی خوردنی تیل کی ستر فیصد ضروریات پوری کرتا ہے مگر انڈونیشیا کی طرف سے ایسی گرمجوشی عنقاہے اوربے پناہ تجارتی مواقع ہونے کے باوجود ماضی میں اُس نے پاکستانی مصنوعات کی
خریداری میںدلچسپی نہیں لی حالانکہ انڈونیشیا ٹیکسٹائل،چمڑے کی مصنوعات اور حلال گوشت کی اہم منڈی ہے اور یہ اشیا اگر دیگر ممالک سے
درآمد کرنے کی بجائے پاکستان کو فوقیت دے تو تجارتی عدمِ توازن کو باآسانی دورکیا جاسکتا ہے ادویات اور آرائشی مصنوعات بھی خریدی
جاسکتی ہیں معیاری اور سستی دفاعی سازوسامان خرید کر انڈونیشیا اپنے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا سکتا ہے دونوں ممالک کی باہمی تجارت کا حجم
گزشتہ برس چار ارب ستر کروڑ ڈالر رہا جس میں پاکستان کی اندونیشیا کوبرآمدات محض پچاس کروڑ تینتالیس لاکھ ڈالر رہیں یہ صورتحال بہت
مایوس کن ہے باہمی تجارت کو باآسانی آٹھ سے دس ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے لیکن اِس کے لیے ضروری ہے کہ اندونیشیااپنی
ترجیحات میں تبدیلی لائے اور پاکستان معاہدے کرتے وقت مال کے بدلے مال کے اصول کواپنائے تاکہ دونوں ممالک کو یکساں معاشی
ترقی کے مواقع حاصل ہوں۔
ماضی میں پاک انڈونیشیا تعاون قابلِ قدررہا ہے 1965کی پاک بھارت جنگ کے دوران انڈونیشیا زبانی و بیانی ہی نہیں عملی طورپر بھی
پاکستان کے ساتھ کھڑا نظر آیا لیکن بعد میں قریبی تعاون کی رفتار برقرا ر نہ رہ سکی جسے بہتر بنانا دونوں ممالک کی زمہ داری ہے اب جبکہ جنوب
مشرقی ایشیا میں انڈونیشیا تجارت کا ایک اہم اور قابلِ رشک مرکز بن کر سامنے آیا ہے تو ضرورت اِس امر کی ہے کہ خطے کے اِس اہم ملک پرپاکستان توجہ دے اور اِس اہم تجارتی منڈی سے فوائد کشید کرے جب دونوں ممالک کے تعلقات باہمی احترام اور اصولوں پر مبنی ہیں تو
پاکستان سے درآمدات میں انڈونیشیا کیوں گریزاںہے؟ نہ صرف اِن وجوہات کوجاننابہت ضروری ہے بلکہ دورکرنابھی پاکستان کی ذمہ داری ہے انڈونیشین صدر کارواں ہفتے کا دورہ تبھی عملی طورپر بہتر ثابت ہو سکتا ہے جب پاکستان لاپرواہی اور سُستی چھوڑ کر تجارت کے
فروغ میں حائل مسائل ختم کرنے پر توجہ دے، یقینا اِس کے لیے ضروری ہے کہ پیداواری شعبے کو مراعات دی جائیں تاکہ نہ صرف برآمدی
سامان وافر ہوبلکہ سستا بھی ہو، مہنگی توانائی پیداوار میں بڑی رکاوٹ ہے جس کاخاتمہ کرنانہایت ضروری ہے۔ دوطرفہ تجارت کے حجم کو
بڑھانے کے لیے انڈونیشیا سے ترجیحی تجارتی معاہدے کے ثمرات تبھی پاکستان حاصل کر سکتا ہے جب محض تجارتی منڈی بننے کی بجائے
برآمدی سپلائی لائن بہتر کی جائے تاکہ تجارتی عدم توازن دورکرنے پر اتفاق حقیقت میں بھی نظر آئے۔
پاکستان اور انڈونیشیا دونوں کا تعلق امریکی بلاک ہے اور دونوں کے ہی ماضی میں امریکی انتظامیہ سے تعلقات اتارچڑھائو کا شکار رہے
ہیں۔ پاکستان کی طرح اب انڈونیشیا بھی چین کے قریب ہورہا ہے۔ اِس کے باوجود تجارتی رکاوٹیں سمجھ سے باہر ہیں انڈونیشین صدر کے
دورہ پاکستان کو اگر دونوں اسلامی ممالک کے دیرینہ تعلقات کا مظہر کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا مہمان کا اسلام آباد پہنچنے پر وزیر اعظم کا استقبال
کرنا اور افواجِ پاکستان کی طرف سے گارڈ آف آنر پیش کرنا ثابت کرتا ہے کہ انڈونیشیا سے تعلقات کوپاکستان بہت اہمیت دیتا ہے۔ صدر
آصف زرداری نے مہمان صدر کو نشانِ پاکستان سے نوازایہ اُلفت،احترام اور اہمیت کا اظہار ہے۔ مہمان صدر سے فیلڈ مارشل جنرل عاصم
منیر کا ملنا اور دفاعی تعاون ،تربیت،اِنسدادِ دہشت گردی اور علاقائی سلامتی جیسے وسیع امور پر تبادلہ خیال کرنا بھی اہمیت کا حامل ہے ۔دونوں
ممالک کے 75برس پر محیط تعلقات ہر آزمائش پر پورا اُترے مگر وہ کیا وجوہات ہیں کہ پاکستانی مال کو نظرانداز کرتے ہوئے ترکیہ کی طرح
انڈونیشیا دیگر ممالک پر مہربان ہے ؟ اگر اِس سوال کا جواب تلاش کرلیاگیا توہی تجارتی عدم توازن بہترہو گاوگرنہ معاہدے اور مفاہمتی یادداشتوں کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: انڈونیشین صدر بھی پاکستان دونوں ممالک پاکستان کی ضروری ہے حوالے سے ممالک کے سکتا ہے ہے اور کے لیے

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان

پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • پاکستان 2027 میں ایس سی او سربراہانِ مملکت اجلاس کی میزبانی کرے گا، رکن ممالک کو دعوت
  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے