پاکستان نے بائنانس اور ایچ ٹی ایکس کو کرپٹو اور ڈیجیٹل کرنسی کی اجازت دے دی
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پاکستان نے کرپٹو اور ڈیجیٹل کرنسی کی سرگرمیوں کے لیے بائنانس اور ایچ ٹی ایکس کو باقاعدہ اجازت نامہ (این او سی) جاری کر دیا ہے۔ یہ این او سی پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (PVRA) کی جانب سے جاری کیا گیا اور اس کا مقصد مارکیٹ میں شفافیت، صارفین کا تحفظ اور جدت کو فروغ دینا ہے۔
میڈیا رپورٹس کےمطابقاین او سی کے تحت بائنانس اور ایچ ٹی ایکس پاکستان میں کرپٹو کرنسی کی ابتدائی تیاری اور مشاورتی سرگرمیاں کر سکیں گے، این او سی جاری کرنے سے پہلے متعلقہ سرکاری اداروں سے مشاورت اور مکمل جائزہ لیا گیا۔
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ این او سی فریم ورک پاکستان میں مالیاتی نظم اور ذمہ دار جدت کا ثبوت ہے، PVRA دنیا کی پہلی اے آئی سے چلنے والی ریگولیٹری اتھارٹی بن رہی ہے، جس نے اے آئی سے چلنے والا ایویلیوایشن سسٹم، دستاویزات کا جائزہ اور ریکروٹمنٹ پورٹل متعارف کروا دیا ہے۔
چیئرمین PVRA بلال بن ثاقب نے کہا کہ یہ قدم پاکستان کے ڈیجیٹل ایسٹ ایکو سسٹم کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے، این او سی جاری کرنے کا مقصد مکمل لائسنس یافتہ اور ریگولیٹڈ ماحول فراہم کرنا ہے، جس سے پاکستان عالمی معیار کے مطابق کرپٹو مارکیٹ میں شفاف اور محفوظ سرمایہ کاری کو یقینی بنائے گا۔
بلال بن ثاقب نے مزید کہا کہ پاکستان میں 3 سے 4 کروڑ کرپٹو صارفین ہیں اور سالانہ ڈیجیٹل ایسٹ ٹریڈنگ کا حجم 300 ارب ڈالر سے زیادہ ہے، اس لیے ہر کمپنی کو شفافیت، گورننس اور رسک مینجمنٹ کے اعلیٰ معیار پر پورا اترنا ہوگا۔
یہ این او سی پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی اور محفوظ ماحول فراہم کرنے کی جانب اہم قدم ہے، تاکہ مارکیٹ میں سرمایہ کاری بڑھ سکے اور صارفین محفوظ طریقے سے ڈیجیٹل کرنسی استعمال کر سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان میں
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔