پاکستان کی سوشل میڈیا کمپنیوں کو دہشتگردانہ کونٹینٹ روکنے کے لیے حتمی وارننگ
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
پاکستان نے بڑی سوشل میڈیا کمپنیوں کو سخت وارننگ جاری کی ہے کہ وہ ملکی قوانین کی پابندی کریں اور دہشتگردنہ مواد کو روکنے کے لیے فعال اقدامات کریں، بصورت دیگر ان کے خلاف برازیل کی طرح کارروائی کی جا سکتی ہے جو گزشتہ سال ’ایکس‘ کے خلاف کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:آسٹریلیا نابالغ بچوں پر سوشل میڈیا پابندی لگانے والا پہلا ملک بن گیا
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد میں غیر ملکی میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وزیر مملکت برائے قانون و انصاف عقیل ملک نے کہا کہ حکومت نے ایکس، میٹا، فیس بک، واٹس ایپ، یوٹیوب، ٹک ٹاک اور ٹیلیگرام سمیت تمام پلیٹ فارمز کے ساتھ اپنے تحفظات کا باقاعدہ اظہار کیا ہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ یہ ہماری آخری وارننگ ہے۔ ان کمپنیوں کو پاکستانی قوانین پر عمل کرنا ہوگا، پاکستان میں دفاتر قائم کرنے ہوں گے، اور اے آئی اور الگورتھم کے آلات کے ذریعے دہشتگردانہ سرگرمیوں سے متعلق اکاؤنٹس کی نشاندہی کرنی ہوگی۔
حکام نے بتایا کہ متعدد اکاؤنٹس ایسے ہیں جو علاقائی دہشتگرد نیٹ ورکس سے منسلک ہیں اور مختلف پلیٹ فارمز پر سرگرم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اکاؤنٹس ایسے تنظیموں سے منسلک ہیں جنہیں پہلے ہی امریکا اور اقوام متحدہ نے ممنوع قرار دیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرحد پار آن لائن سرگرمیاں شدت پسندی اور سیکیورٹی خطرات میں اضافہ کر رہی ہیں۔
برازیل کی مثال
پاکستان نے برازیل کا حوالہ دیا، جہاں گزشتہ سال جون میں سپریم کورٹ نے ایکس تک رسائی بلاک کر دی تھی کیونکہ اس نے 2022 کے صدارتی انتخابات کے دوران غلط معلومات پھیلانے والے اکاؤنٹس کو بند نہیں کیا تھا۔’ایکس‘ نے بعد میں 5.
طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے متعدد بار اپنی تشویش کا اظہار کیا، جن میں 24 جولائی کو پلیٹ فارمز کو تفصیلی بریفنگ دینا بھی شامل ہے، لیکن جوابات ’ناکافی‘ رہے۔
انہوں نے ’ایکس‘ کو سب سے کم تعاون کرنے والا اور ٹک ٹاک اور ٹیلیگرام کو سب سے زیادہ تعاون کرنے والا قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:سوشل میڈیا کے ذریعے پنجاب میں ’را‘ کے نیٹ ورک کا سراغ، 12 دہشتگرد گرفتار
حکام نے کہا کہ پلیٹ فارمز کو دہشتگردی سے منسلک اکاؤنٹس کے آئی پی ایڈریسز فراہم کرنے، اور مرر اکاؤنٹس کی تخلیق روکنے کے لیے جدید فلٹرز استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
عقیل ملک نے کہا کہ یہ معاملہ کمپنیوں کے ساتھ ساتھ ان ممالک کی حکومتوں کے ساتھ بھی اٹھایا گیا ہے جہاں یہ پلیٹ فارمز قائم ہیں۔
عقیل ملک نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف فرنٹ لائن اسٹیٹ ہے اور عالمی دہشتگردی کی قیمت ادا کر رہا ہے۔ دنیا کو اس جنگ میں پاکستان کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کمپنیاں تعاون میں ناکام رہیں تو حکومت غیر تعاون کرنے والے پلیٹ فارمز کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایکس برازیل پاکستان دہشتگردی سوشل میڈیا طلال چوہدری عقیل ملک
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایکس برازیل پاکستان دہشتگردی سوشل میڈیا طلال چوہدری عقیل ملک طلال چوہدری پلیٹ فارمز سوشل میڈیا نے کہا کہ عقیل ملک کے ساتھ کے خلاف کے لیے
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔