کہوٹہ میں مسافر وین ڈرائیور کی غفلت سے دریا میں جاگری، 3 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
کہوٹہ میں مسافر وین ڈرائیور کی غفلت سے دریا میں جاگری، 3 افراد جاں بحق WhatsAppFacebookTwitter 0 12 December, 2025 سب نیوز
راولپنڈی کی تحصیل کہوٹہ کے علاقے آزاد پتن کے قریب مسافر وین کے دریا میں گرگئی۔ ٹریفک حادثہ ڈرائیور کی مبینہ غفلت کے نتیجے میں پیش آیا۔
پولیس کے مطابق ڈرائیور محمد ادریس کے خلاف غفلت لاپروائی و تیز رفتاری سے ڈرائیونگ کرنے پر مقدمہ درج کرلیاگیا۔ مقدمہ پولیس کی مدعیت میں اے ایس آئی وقاص اسلم کی مدعیت میں 322 ،379اور 337جی تعزیرات پاکستان کے تحت درج کیاگیا۔
وقاص اسلم اے ایس آئی کا کہنا تھا کہ آزاد پتن پکٹ پر دیگر عملے کے ساتھ ڈیوٹی پر موجود تھا۔ مسافر وین جسکو ادریس چلا رھا تھا، تیز رفتاری سے آزاد پتن کی جانب سے آئی۔
تیز رفتاری کے باعث گاڑی ڈرائیور سے بے قابو ہوکر دریا میں جاگری ۔ موقع پر پنچکر امدادی کاروائیاں شروع کرکے باسط شاہ ،محمد لیاقت ،ظفراقبال اور سجاد شاہ کو زخمی حالت میں زندہ نکال لیا گیا ۔
جبکہ 60 سالہ مسماتہ فاطمہ، انکا 50 سالہ بیٹا پروفیسر نعیم اور مسافر عدیل کی نعشیں ریسکیو 1122 نے دریا سے نکالیں ۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپنجاب کے تمام تعلیمی بورڈز میں ڈیجیٹل امتحانی اصلاحات کا آغاز پنجاب کے تمام تعلیمی بورڈز میں ڈیجیٹل امتحانی اصلاحات کا آغاز اللہ تعالیٰ نے ہماری افواج کو محافظ حرمین شریفین ہونے کا شرف عطا فرمایا ہے، سربراہ جامعۃ الرشید عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مسلسل تنہائی میں رکھا جا رہا ہے: سہیل آفریدی امریکا چاہتا ہے یوکرین ڈونباس شہر سے دستبردار ہوجائے، زیلنسکی کا بڑا انکشاف عالمی برادری افغان حکومت پر ذمہ داریوں کی ادائیگی کیلئے زور ڈالے، وزیراعظم شہباز شریف سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے آنے والا راولپنڈی کا رہائشی چل بساCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔