حیدرآباد، سی این جی فلنگ کے دوران وین میں دھماکہ، 8 مسافر زخمی
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
حیدرآباد بائی پاس پر واقع سی این جی فیلنگ اسٹیشن پر اس وقت افرا تفری مچ گئی جب گیس فلنگ کے دوران کراچی سے آنے والی ایک مسافر وین میں اچانک آگ بھڑک اٹھی اور چند ہی لمحوں میں پوری گاڑی شعلوں کی لپیٹ میں آکر خاکستر ہوگئی۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق آتشزدگی کے دوران ایک زوردار دھماکہ بھی سنائی دیا، جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ سلینڈر پھٹنے سے ہوا۔
واقعے کے فوراً بعد سی این جی گیس فلنگ اسٹیشن کو خالی کرالیا گیا اور ریسکیو 1122 و فائر بریگیڈ کی ٹیمیں موقع پر پہنچ کر آگ بجھانے میں مصروف رہیں۔
ترجمان ریسکیو کا کہنا ہے کہ جس وقت آگ بھڑکی اُس وقت وین میں مسافر سوار تھے تاہم شعلے اٹھتے ہی بیشتر افراد اپنی مدد آپ کے تحت گاڑی سے نکل کر محفوظ مقام تک پہنچ گئے۔
8 مسافر جھلس کر زخمی ہوئے جن میں سے ایک کو ریسکیو ایمبولینس کے ذریعے سول اسپتال کے برنس وارڈ منتقل کیا گیا جبکہ سات زخمیوں کو پولیس موبائل کے ذریعے اسپتال پہنچایا گیا۔
انچارج چیک پوسٹ انسپیکٹر عبدالمالک ابڑو کے مطابق دو زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ڈسچارج کردیا گیا ہے جبکہ چھ افراد برنس وارڈ میں زیرِ علاج ہیں۔
پولیس کے مطابق ایک مسافر 40 فیصد جھلسنے کے باعث تشویشناک حالت میں ہے تاہم ڈاکٹرز نے باقی تمام زخمیوں کی حالت کو خطرے سے باہر قرار دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔
چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔