پاکستان مخالف پروپیگنڈا پھیلانے پر بالی ووڈ فلم ’دھُرندھر‘ کو بڑا دھچکا
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
بالی ووڈ کی حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم دھُرندھر کو پاکستان مخالف پروپیگنڈا کی بنیاد پر خلیجی ممالک میں نمائش سے روک دیا گیا ہے۔
بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے فلم کو اپنے ملک میں ریلیز کرنے کی اجازت نہیں دی۔
یہ بھی پڑھیں: بالی ووڈ فلم ’دھُرندھر‘ کی باکس آفس پر دھوم، 7 دنوں میں کتنے کروڑ کمائے؟
فلم کی ٹیم کی جانب سے بھرپور کوشش کے باوجود یہ ممالک خطے میں فلم کی نمائش کی منظوری نہیں دے سکے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کسی بھارتی فلم پر پابندی عائد کی گئی ہوبلکہ اس نوعیت کی فلمیں پہلے بھی اس خطے میں ریلیز کے دوران مشکلات کا سامنا کر چکی ہیں۔ جن میں ’فائٹر‘، ’اسکائی فورس‘ اور’دی ڈپلومیٹ‘ شامل ہیں۔
دھُرندھر میں بالی ووڈ کے معروف اداکار سنجے دت، رنویر سنگھ، ارجن رامپال اور اکشے کھنہ شامل ہیں۔ فلم کی کہانی پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی، انڈین ایجنٹس اور کراچی کی مشہور لیاری گینگ وار کے حقیقی کرداروں کے گرد گھومتی ہے۔ فلم کا دوسرا حصہ 19 مارچ 2026 کو سینما گھروں میں ریلیز ہونے کا امکان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ دھُرندھر دھُرندھر بین دھُرندھر ریلیز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بالی ووڈ دھ رندھر ریلیز میں ریلیز بالی ووڈ
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔