امریکی عدالت کا لاس اینجلس میں نیشنل گارڈ کی تعیناتی فوری ختم کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کیلی فورنیا: امریکا میں ایک وفاقی جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لاس اینجلس میں نیشنل گارڈ کی تعیناتی کو اختیارات سے تجاوز قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر ختم کرنے اور فورس کو کیلی فورنیا کے گورنر کے کنٹرول میں واپس دینے کا حکم دیا ہے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق کیلی فورنیا کی ایک وفاقی عدالت نے بدھ کے روز فیصلہ دیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے نیشنل گارڈ کی تعیناتی کے حوالے سے اپنے صدارتی اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔
سان فرانسسکو میں قائم امریکی ڈسٹرکٹ عدالت کے جج چارلس بریئر کے اس فیصلے کو صدر ٹرمپ کی اس پالیسی کے لیے ایک بڑا قانونی جھٹکا قرار دیا جا رہا ہے، جس کے تحت وہ ڈیموکریٹک کنٹرول والے شہروں میں نیشنل گارڈ کی تعیناتی جاری رکھے ہوئے تھے، ایک ایسا اقدام جسے اندرونی معاملات میں عسکری طاقت کے غیر معمولی استعمال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق معاملہ بالآخر امریکی سپریم کورٹ تک جا سکتا ہے۔
جج چارلس بریئر نے اپنے فیصلے میں کہا کہ وفاقی امیگریشن پالیسیوں کے خلاف احتجاج کو ’بغاوت‘ قرار دینے کا کوئی ثبوت موجود نہیں اور اس بنیاد پر نیشنل گارڈ کو وفاقی کنٹرول میں لینا قانونی طور پر درست نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے یہ مؤقف اپنا کر صدارتی اختیارات کی ’غیر معمولی توسیع‘ کی کوشش کی۔
جج نے یہ مؤقف بھی مسترد کر دیا کہ عدالتیں ایمرجنسی کے دوران صدر کے اس فیصلے کا جائزہ لینے کا اختیار نہیں رکھتیں۔
فیصلہ کیلی فورنیا کے گورنر گیون نیوزم کی جانب سے دائر مقدمے کے نتیجے میں آیا، جس میں انہوں نے اگست میں ٹرمپ کی جانب سے 300 نیشنل گارڈ اہلکاروں کو 2 فروری 2026 تک وفاقی کنٹرول میں لینے کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ ریاستی نیشنل گارڈ رسمی طور پر ریاست کے ماتحت ہوتے ہیں تاہم مخصوص حالات میں انہیں وفاقی سروس میں بلایا جا سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان ابیگیل جیکسن نے عدالتی فیصلے کے بعد بیان میں کہا کہ ٹرمپ کو ’’پُرتشدد فسادات‘‘ کے جواب میں فوج تعینات کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہے اور انتظامیہ کو یقین ہے کہ وہ بالآخر اس قانونی جنگ میں سرخرو ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کیلی فورنیا نیشنل گارڈ کی تعیناتی
پڑھیں:
فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے ایک آنے والی فلم ’کالا ہرن‘ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے فلم سازوں کو نوٹس جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: میں اکیلا نہیں ہوں، سلمان خان کی انسٹا پوسٹ نے ماں سمیت لاکھوں مداحوں کو بے چین کردیا
فلم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کی کہانی سنہ 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس سے متاثر ہے جس میں سلمان خان کا نام سامنے آیا تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سلمان خان کی قانونی ٹیم نے کاسٹنگ ڈائریکٹر اکشے پانڈے کو نوٹس بھجوایا ہے جس میں فلم کو اداکار کی شخصیت اور ساکھ کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی تشہیری مہم اور ریلیز فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کالا ہرن کیس اب بھی راجستھان ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے جبکہ فلم مبینہ طور پر سلمان خان کی شخصیت اور شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔
سلمان خان کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل نے نہ تو اپنی شخصیت، نام یا اس واقعے سے متعلق کسی مواد کے استعمال کی اجازت دی ہے اور نہ ہی اس پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
مزید پڑھیے: سلمان خان کی نقل کیوں کی؟ رجب بٹ نے اپنی اس حرکت کی وجہ بتادی
دوسری جانب فلم کے پروڈیوسر امیت جانی نے قانونی نوٹس کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے سلمان خان کے مؤقف کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قانونی نوٹس کا مقصد صرف فلم سے وابستہ افراد کو دباؤ میں لانا ہے۔
امیت جانی نے فیس بک پر لکھا کہ سلمان خان کالا ہرن سے وابستہ لوگوں کو قانونی نوٹس کے ذریعے دھمکا رہے ہیں لیکن یہ صرف خوف پیدا کرنے کی کوشش ہے تاکہ لوگ دباؤ میں آ جائیں۔
فلم کے حوالے سے بحث اس وقت مزید تیز ہوگئی جب اس کا پہلا پوسٹر جاری کیا گیا۔ پوسٹر میں ایک شخص کو بندوق تھامے دکھایا گیا ہے جس نے فیروزی رنگ کا وہی بریسلٹ پہن رکھا ہے جو سلمان خان کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: سلمان خان کے 42 سال پرانے قریبی دوست کا انتقال، اداکار کا سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام
فلم سازوں کے مطابق ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگسی‘ حقیقی قانونی تنازعات اور ایکشن پر مبنی کہانی پیش کرے گی جبکہ اس کا ٹیزر 20 جون کو جاری کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
کالا ہرن کیس کیا تھا؟سنہ1998 میں فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کے دوران سلمان خان پر راجستھان کے ضلع جودھ پور کے قریب کنکانی گاؤں میں 2 کالے ہرن شکار کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
اس مقدمے میں سلمان خان کے ساتھ اداکار سیف علی خان، سونالی بیندرے، نیلم اور تبو کے نام بھی شامل تھے تاہم بعد میں دیگر تمام فنکاروں کو بری کر دیا گیا تھا۔
اپریل 2018 میں جودھ پور کی ایک عدالت نے سلمان خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 5 سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت مل گئی۔
یہ بھی پڑھیے: رنویر سنگھ کے بعدسلمان خان کے بہنوئی کو بھی دھمکی آمیز پیغام موصول
سنہ 2022 میں راجستھان ہائیکورٹ نے اس کیس سے متعلق تمام مقدمات اپنے دائرہ اختیار میں لے لیے تھے جہاں اب بھی کارروائی جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ سلمان خان سلمان خان اور کالا ہرن سلمان خان اور مقدمہ فلم کالا ہرن کالا ہرن